سکھر بیراج کی بہتری کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

سندھ حکومت نے برطانوی کمپنی سے سکھر بیراج کی بحالی اور بہتری کا تخمینہ لگانے کے لیے معاہدہ کیا ہے، یہ رپورٹ ایک سال میں مکمل ہوگی جس کے لیے تینتیس کروڑ رپے مختص کیے گئے ہیں۔

گزشتہ سال آنے والے سیلاب کے باعث سکھر بیراج کو نقصان پہنچا تھا۔

صوبائی وزیر آبپاشی جام سیف اللہ دھاریجو نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سکھر بیراج کو سندھ کی زراعت کی لائف لائن قرار دیا، ان کا کہنا تھا کہ سکھر بیراج کا ڈھانچہ اسی سال پرانا ہے اب وہ اسے سو سال کے لیے مضبوط بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جام سیف اللہ کا کہنا تھا کہ اس وقت سکھر بیراج سے پانی گذرنے کی گنجائش نو لاکھ کیوسک ہے اب اسے بڑھاکر ساڑہ دس لاکھ کیوسک تک کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں آنے والی سیلابی ریلے یہاں سے باآسانی گذر سکیں۔

زیریں سندھ میں بارش کے پانی کی نکاسی کے بارے میں ان کا دعویٰ تھا کہ ان علاقوں میں ستر فیصد زمینوں پر کاشت ہوسکتی ہے اور نومبر تک یہ شرح نوے فیصد تک پہنچ جائیگی۔

اس موقعے پر سکھر بیراج کے چیف انجنیئر آغا اعجاز احمد کا کہنا تھا کہ اس وقت سکھر بیراج کو خطرناک صورتحاک کا سامنا ہے، جس کی مرمت کی فوری ضرورت ہے۔