وانا: صحافی کے گھر کے باہر دھماکہ

وانا (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صحافی کا گھر ڈبکوٹ میں واقع ہے (وانا: فائل فوٹو)

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان کے صدر مقام وانا میں صحافی جاوید نور وزیر کے گھر کے مین گیٹ میں نصب بم پھٹنے سے گھر کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن اس میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

جنوبی وزیرستان کے پولیٹکل ایجنٹ جاوید مروت نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ یہ واقہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات وانا سے کوئی چار کلومیٹر دور جنوب مغرب کی جانب گاؤں ڈبکوٹ میں پیش آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر مقام وانا میں گزشتہ ایک عرصے سے آمن آمان قائم تھا لیکن اب ایک دو ہفتوں سے بم دھماکے اور سکیورٹی فورسز پر فائرنگ کے واقعات پیش آئیں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ جنوبی وزیرستان میں پولیٹکل انتظامیہ کی عملداری بحال ہوگئی ہے اور حال ہی میں جو واقعات پیش آئیں ہیں اس کے خلاف ایف سی آر کے تحت کارروائی کی ہے۔اہلکار کے مطابق صحافی جاوید نور کے گھر میں دھماکہ علاقے میں جاری شدت پسندی کا ایک حصہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پولیٹکل انتظامیہ نے تحقیقات شروع کی ہے اور جلد ہی اس میں ملوث لوگوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔

صحافی جاوید نور نے بتایا کہ دھماکے گھر کی دیوار کے ساتھ نصب ایک بم سے کیا گیا۔دھماکے سےگھر کا دروازہ اور چاردیواری مکمل طور پر منہدم ہوگئی ہے۔ انہوں نے بتایا کے گھر کے اندر تین کمروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

اس واقعہ کی ابھی کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے نہ ہی انہوں نے کسی پر الزام لگایا ہے۔ جاوید نور کے مطابق ان کی کسی سے کوئی دُشمنی نہیں ہے۔

جاوید نور کا شمار جنوبی وزیرستان کے سینیئر صحافیوں میں ہے۔ انہوں نے اُنیس سو بیانوے میں گومل یونیورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان سے جرنلزم کی ڈگری حاصل کی تھی اور اُس وقت سے اب تک روزانہ ’مشرق‘ سے وابستہ ہے۔

اسی بارے میں