باڑہ میں آپریشن کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شدت پسندوں کے خلاف گن شپ ہیلی کاپٹروں کے علاوہ زمینی دستوں کی کارروائی بھی شامل ہے۔

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں گزشتہ شام سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے مابین ہونے والی جھڑپ کے بعد سے باڑہ کے مختلف علاقوں میں کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اس جھڑپ میں ایک کپتان سمیت تین اہلکار ہلاک جبکہ چونتیس شدت پسند مارے گئے تھے۔

ایک اعلی فوجی اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ تحصیل باڑہ کے مختلف علاقوں میں موجود شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں شدت پسندوں کے خلاف گن شپ ہیلی کاپٹروں کے استعمال کے علاوہ زمینی دستوں کی کارروائی بھی شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ جن علاقوں میں کارروائی ہوگی وہاں سے لوگوں کو نکل جانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ کیا متاثرین کے لیے کوئی امدادی کیمپ موجود ہے انہوں نے کہا کہ یہ پولیٹکل انتظامیہ سے پوچھا جائے۔

ادھر مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے تحصیل باڑہ کے مختلف گاؤں کو لوگوں سے خالی کرنے کا کہا ہے جن میں منڈی کس، سپا، نالا ملک دین خیل، کوہی ملک دین خیل، دولت ملک دین خیل، جانسی، سپین قبر، یوسف تالاب اور میاں گانو خوڑ کے علاقے شامل ہیں۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام گاؤں ایک دوسرے کے قریب ہیں اور تقریباً دس کلومیٹر مربع رقبے پر واقع ہے۔ جس کی کل آبادی بیس ہزار سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے جن علاقوں کی نشاندہی کی ہے ان علاقوں سے لوگوں نے قریبی علاقوں میں نقل مکانی شروع کی ہے۔

یاد رہے کہ باڑہ میں گزشتہ تین برسوں سے سکیورٹی فورسز نے شدت پسند تنظمیوں کے خلاف غیر اعلانیہ کارروائی شروع کی ہوئی ہے جس کی وجہ سے باڑہ بازار کے تمام تجارتی مراکز اور دوسرا کاروبار متاثر ہو رہا ہے۔ جبکہ باڑہ سے ملنے والے کئی راستے بھی بند پڑے ہیں۔

اسی بارے میں