مالی معاونت کے لیے حکومت کو مہلت

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عدالت نے جولائی 2011 میں مالی معاونت کرنے کے احکامات دیے تھے

پاکستان کی وفاقی حکومت نے لاپتہ ہونے والے سینکڑوں افراد میں سے چھ کے ورثاء کی پانچ ہزار روپے ماہانہ کے حساب سے مالی معاونت کے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے بھی مزید وقت مانگ لیا ہے۔

سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت کو لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثاء کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے چھبیس اکتوبر تک کی مہلت دی ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ افسران کو نتائج بھگتنا ہوں گے۔

سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں شاکراللہ جان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعہ کے روز لاپتہ افراد سے متعلق مختلف درخواستوں کی سماعت کی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق عدالت کو بتایا گیا کہ سپریم کورٹ نے دو جولائی سنہ دوہزار گیارہ کو لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثاء کو مالی معاونت فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے تھے اُس پر ابھی تک عمل درآمد نہیں ہوا۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ خواجہ صدیق اکبر کو طلب کیا اور اُنہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس ضمن میں سمری تیار کر لی گئی ہے اور مجاز اتھارٹی کی جانب سے اس کی حتمی منظوری کے بعد لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثاء کو پانچ ہزار روپے کے حساب سے ماہانہ ادائیگی کی جائے گی۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے سیکرٹری داخلہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر آئندہ سماعت پر عدالتی احکامات پر عمل درآمد نہ ہوا تو وہ نتائج کو ذہن میں رکھتے ہوئے عدالت میں پیش ہوں۔

وزارت داخلہ نے جن چھ افراد کے ورثاء کو معاوصہ دینے کے بارے میں فیصلہ کیا ہے اُن میں سے دو کا تعلق پنجاب سے، دو کا صوبہ بلوچستان سے ہے جبکہ صوبہ خیبر پختونخوا اور سندھ سے ایک ایک شخص کے ورثاء کو مالی معاوضہ دیا جائے گا۔ یہ افراد سنہ دو ہزار دو سے دو ہزار سات کے درمیان لاپتہ ہوئے ہیں۔

وزارتِ داخلہ کی طرف سے سپریم کورٹ میں جمع کروائے گئے ریکارڈ میں اس بات کا ذکر کہیں نہیں ہے کہ ان چھ افراد کے ورثاء کو معاوضہ دینے کے لیے کونسا طریقہ کار اختیار کیا گیا تاہم وزارت داخلہ میں ہونے والے اجلاس کی تفصیلات میں یہ کہا گیا ہے کہ لاپتہ ہونے والے مذکورہ افراد کے ورثاء کو معاوضہ دیا جائے۔

سپریم کورٹ نے ڈھائی سو کے قریب درخواستیں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بنائے جانے والے کمیشن کو بھجوائی تھیں کہ وہ بھی ان معالات کو بھی دیکھیں۔ یاد رہے کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جاوید اقبال کو اس کمیشن کا سربراہ مقرر کیا ہے تاہم ابھی تک اُن کی سربراہی میں کوئی اجلاس نہیں ہوا۔

ڈیفنس آف ہومین رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی اس اقدام سے لاپتہ ہونے والے دیگر افراد کے ورثاء میں مایوسی پھیلے گی۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے یونیفارم پالیسی نہیں ہے اور عدالت عظمی کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے۔ آمنہ مسعود جنجوعہ کا جن کے خاوند خود لاپتہ ہیں، کہنا تھا کہ اُنہوں نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ اگر حکومت کے پاس وسائل کی کمی ہے تو وہ ان چھ خاندانوں کو بھی مالی امداد نہ دے ورنہ دیگر لاپتہ ہونے والے افراد کے ورثاء کی بھی مالی معاونت کرے۔

اُنہوں نے کہا کہ اُن کی تنظیم کی جانب سے جمع کیے گیے اعدادوشمار کے مطابق ایک ہزار کے قریب افراد مختلف علاقوں سے لاپتہ ہیں جبکہ بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے تین سو افراد اس کے علاوہ ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بھی اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد میں اکثریت کا تعلق بلوچستان سے ہے۔

اسی بارے میں