’قابل گرفت جرم ثابت ہو تومقدمہ درج کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

کراچی کی عدالت نے پولیس کو حکم دیا ہے کہ صوبائی وزیر رؤف صدیقی کا بیان قلمبند کیا جائے اور اگر یہ ثابت ہو کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے قابل گرفت جرم کیا ہے تو ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی عبدالرزاق کی عدالت نے یہ حکم متحدہ قومی موومنٹ کے صوبائی وزیر رؤف صدیقی کی درخواست پر حکم جاری کیا ہے۔

رؤف صدیقی نے اس درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے انیس اکتوبر کو لیاری کے علاقے کلاکوٹ میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران پیغمبر اسلام کی مکہ سے مدینہ ہجرت کے حوالے سے ایسے کلمات استعمال کیے جو پیغمبر اسلام کی توہین کے زمرے میں آتے ہیں۔

عدالت نے سنیچر کو فیصلہ سناتے ہوئے ایس ایچ او کلا کوٹ کو یہ اختیار دیا کہ اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر مرزا نے قابل گرفت جرم کیا ہے تو ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا جائے۔

کراچی سے بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ایس ایچ او کلا کوٹ اس فیصلے سے پہلے ہی عدالت کو آگاہ کرچکے ہیں کہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے ایسی کوئی بات نہیں کی جو توہین کے زمرے میں آتی ہو۔

یاد رہے کہ عدالت کا فیصلہ ایسے موقعے پر سامنے آیا ہے جب سنیچر کو کراچی میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل میں سزا یافتہ مجرم ممتاز قادری کی حمایت میں سنی اتحاد کونسل کی جانب سے ریلیاں نکالی جارہی ہیں۔

پچھلے دنوں پیپلز پارٹی کے باغی رہنما اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف اپنی مہم کے دوران ایک پریس کانفرنس میں ایم کیو ایم کے صوبائی وزیر رؤف صدیقی پر مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے تھے۔ ان الزامات کو رؤف صدیقی نے مسترد کیا بعد میں انہوں نے ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی۔

اسی بارے میں