خیبر آپریشن: لوگوں کی نقل مکانی جاری

فائل فوٹو، نقل مکانی تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کی وجہ سے مقامی لوگوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔

خیبر ایجنسی کی تحصیل باڑہ کے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کے بعد حکام کے مطابق لگ بھگ تین سو خاندان، سرکاری امداد کے جلوزئی کیمپ میں پہنچ چکے ہیں جبکہ لوگوں کی بڑی تعداد پشاور میں اپنے عزیز و اقارب کے ہاں قیام کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے پی ڈی ایم اے کے ترجمان عدنان خان نے بی بی سی کو بتایا کہ متاثرین کے کوائف کا اندراج کرنے کے بعد ان کو خیمے فراہم کر دیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ متاثرین کو خوراک کی فراہمی کے لیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک سے رابط کیا گیا ہے۔

عدنان خان کا کہنا تھا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے دو دن تک امداد کی فراہمی متوقع ہے اور اس سے پہلے متاثرین کو صوبائی حکومت اور پی ڈی ایم اے کی جانب سے تیار کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے دیگر متعلقہ اداروں سے درخواست کی ہے کہ وہ متاثرین کی مدد کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بقول ان کے امدادی اداروں نے متاثرین کی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں جمعرات کو سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے مابین ہونے والی جھڑپ کے بعد سے باڑہ کے مختلف علاقوں میں کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکام کے مطابق اس جھڑپ میں ایک کپتان سمیت تین اہلکار ہلاک جبکہ چونتیس شدت پسند مارے گئے تھے۔

ایک اعلیٰ فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ تحصیل باڑہ کے مختلف علاقوں میں موجود شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے جس میں شدت پسندوں کے خلاف گن شپ ہیلی کاپٹروں کے استعمال کے علاوہ زمینی دستوں کی کارروائی بھی شامل ہے۔

اسی بارے میں