نصرت بھٹو، زندگی میں سکھ کم اور دکھ بہت

نصرت بھٹو تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بیگم نصرت بھٹو کو دورن علالت ہسپتال کی ایک یاد گار تصویر جس میں ان کے ساتھ ان کے دونوں بیٹیاں بینظر بھٹو اور صنم بھٹو موجود ہیں۔

پاکستان کی سابق خاتون اول بیگم نصرت بھٹو اتوار تئیس اکتوبر کی دوپہر دبئی کی ایک ہسپتال میں بیاسی برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

بیگم نصرت بھٹو اعلیٰ پائے کے کسی گھرانے کی شاید ہی کوئی ایسی خاتون ہوں جنہوں نے اپنی زندگی میں شوہر اور تین بچوں کی لاشیں اٹھائیں ہوں۔

بیگم نصرت بھٹو انیس سو انتیس میں ایران کے شہر اصفہان میں پیدا ہوئیں۔ ان کا ایک امیر خاندان سے تعلق تھا اور ان کے والد کراچی میں مقیم رہے اور بڑی کاروباری شخصیت تھے۔

نصرت بھٹو کی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے انیس سو اکیاون میں کراچی میں شادی ہوئی۔ ان کے چار بچے ہوئے۔ جن میں بینظیر بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو، صنم بھٹو اور میر شاہنواز بھٹو شامل ہیں۔

کردش نسل کی ایرانی نژاد پاکستانی بیگم نصرت بھٹو کے بارے میں ان کے قریبی ساتھی بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے شوہر کو اقتدار کے ایوانوں کی جہاں راہ دکھانے میں مدد کی وہاں سیاست کا ایک اہم ستون بنانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔

نصرت بھٹو کی زندگی میں سکھ کم اور دکھ بہت نظر آتے ہیں۔ ان کے شوہر سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اکیاون سال کی عمر میں انیس اناسی کو فوجی صدر ضیاالحق کے دور میں پھانسی ہوئی۔

ان کے جواں سال بیٹے شاہنواز بھٹو کی ستائیس برس کی عمر میں فرانس میں مشکوک حالات میں موت وقع ہوئی۔ جب کہ ان کے بڑے صاحبزادے مرتضی بھٹو کی انیس سو چھیانوے میں بیالیس برس کی عمر میں اپنی ہمشیرہ بینظیر بھٹو کے دورِ حکومت میں کراچی میں ایک مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت ہوئی۔

بیگم نصرت بھٹو کی بڑی صاحبزادی اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو راولپنڈی میں سنہ دو ہزار سات کو دہشت گردی کے حملے میں چون برس کی عمر میں قتل کیا گیا۔

بعض مبصرین کہتے ہیں کہ بیگم نصرت بھٹو کے پائے کی اعلیٰ شخصیت شاید ہی کوئی ہوگی جس نے جمہوریت کے طویل سفر میں اپنے اتنے پیاروں کی لاشیں اٹھائیں ہوں۔

شاہنواز بھٹو کے انیس سو پچاسی میں قتل کے بعد ان کی میت پاکستان لانے کے سوال پر بینظیر بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو میں کچھ تلخی ہوئی تو اس وقت بیگم صاحبہ نے بیٹی کی رائے کو تقویت دی۔ کیونکہ میر مرتضیٰ بضد تھے کہ وہ اپنے بھائی کی میت پاکستان لے جائیں گے۔ جب کہ بینظیر بھٹو کی رائے تھی کہ فوجی ڈکٹیٹر ضیاالحق انہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں اس لیے وہ ملک سے باہر رہیں۔

بیگم نصرت بھٹو اپنے شوہر کی وزارت اعظمیٰ تک سیاست میں سرگرم نہیں رہیں لیکن جیسے ہی ذوالفقار علی بھٹو کو ایک فوجی آمر ضیاالحق نے قید کیا تو ان کا حادثاتی طور پر سیاسی سفر شروع ہوا۔

انیس سو اناسی میں جب ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تو وہ پاکستان ی سیاست کا ایک نمایاں کردار بنیں اور فوجی ڈکٹیٹر کو للکارا اور ان کے سامنے ہار نہیں مانی۔ وہ پاکستان پیپلز پارٹی کی انیس سو اناسی سے انیس سو تراسی تک چیئرپرسن رہیں۔

لیکن جب انیس سو بیاسی میں کینسر کی ابتدائی علامات کے بارے میں بتایا گیا تو وہ علاج کے لیے لندن چلی گئیں اور ان کی بڑی صاحبزادی بینظیر بھٹو نے پارٹی کی قیادت سنبھالی۔

بیگم نصرت بھٹو نے فوجی صدر ضیاالحق کے دور میں جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد میں بڑی سرگرمی سے حصہ لیا۔

بیگم بھٹو اپنے صاحبزادے میر مرتضی بھٹو کے قتل کے بعد ’الزائمر‘ نامی دماغی بیماری میں مبتلا ہوگئیں۔ طبی ماہرین کے مطابق الزائمر کی وجہ سے انسان کی یاداشت اور سوچنے کی صلاحیت آہستہ آہستہ ختم ہوجاتی ہے۔

بیگم نصرت بھٹو نے اپنی زندگی کے آخری برس دبئی میں گزارے اور آخری ایام میں وہ کسی کو پہچاننے سے بھی قاصر تھیں۔

بعض سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ بیگم نصرت بھٹو کی وفات سے پیپلز پارٹی کی سندھ میں سیاست پر شاید اتنے اثرات مرتب نہیں ہوں گے کیونکہ وہ اپنی زندگی میں ہی کئی برسوں سے سیاست سے الگ تھلگ ہوگئیں تھیں۔

بیگم نصرت بھٹو جس پائے کی شخصیت تھیں ان میں وہ غرور یا تکبر نہیں تھا جو عام طور پر سیاسی خاندانوں کے افراد میں نظر آتا ہے۔ وہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو اپنے بچوں کی طرح پیار کرتی تھیں۔ لیکن وہ اپنے کٹر سیاسی مخالفین سے سختی سے پیش آتیں تھیں۔

میاں نواز شریف کے پہلے دورِ حکومت میں جب اکثریت ہونے کے باوجود پیپلز پارٹی کو صوبہ سندھ میں حکومت بنانے نہیں دی گئی اور جام صادق علی خان کو وزیراعلیٰ سندھ بنایا گیا تو ایک مرتبہ ہوائی اڈے پر جب دونوں کا آمنا سامنا ہوا تو جام صادق نے کہا ’ہیلو ممی‘۔۔ جس پر بیگم صاحبہ نے انہیں کہا تھا ‘شٹ اپ باسٹرڈ’۔

اسی بارے میں