’بچوں پہ چلی گولی‘

نصرت بھٹو اور بینظیر بھٹو تصویر کے کاپی رائٹ Other
Image caption مرتضی بھٹو کی ہلاکت کے بعد نصرت بھٹو صدمے سے کبھی باہر نہیں آ سکیں

اگر پاکستانی ریاست اور سیاست کا کسی عورت، ماں چاہے انسان سے سلوک کا اندازہ لگانا ہو تو بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ روا رکھا جانے والے سلوک سے لگایا جا سکتا ہے۔

کس نے جانا تھا کہ یہ گلابوں کی سرزمین اصفہان نصف جہاں کی یہ خوبصورت لڑکی نصرت صبونچی پاک سرزمین پر خاتونِ اوّل بننے کے بعد مصائب کی تصویر میں ڈھل کر حبیب جالب کی ان سطروں کی طرح بن جائے گی:

بچوں پہ چلی گولی

ماں دیکھ کر یہ بولی

کیوں چند لٹیروں کی پھرتے ہو لیے ٹولی

اس ظلم سے باز آؤ

بیرک میں چلے جاؤ

نہ وہ بیرک میں گئے اور نہ ہی ان کے ظلم میں کوئي کمی آئي۔ اس ملک میں سب سے زیادہ ظلم ماؤں او عورتوں پر ہی ٹوٹے ہیں۔

اب تصور کریں کہ ایک عورت، ایک ایک ماں جس کا میاں، دو جوان بیٹے اور ایک جوان بیٹی یکے بعد دیگرے اور پاکستان میں حکومت در حکومت یہان تک کہ خود اس کی پارٹی اوری بیٹی کی حکومت میں بھی مارے گئے۔

وہی قذافی سٹیڈیم لاہور ہے جہاں پاکستان کی اس سابق خاتوِن اوّل نے اپنا سر پولس کی لاٹھیوں سے لہو لہان کروا کر پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کی تحریک کا پہلا بیج بو دیا تھا۔

’ریاست ہو گی ماں کے جیسی‘ پاکستان میں وکلاء کی تحریک کے رہنما اور پی پی پی کے راندہ درگاہ رہنما اعتزاز احسن فوجی آمر پرویز مشرف کے دنوں میں معطل چیف جسٹس و عدلیہ کی بحالی کی تحریک کے دوران یہ شعر پڑہا کرتے تھے۔

جمہوریت بھی بحال ہوگئی ۔عدلیہ اور چیف جسٹس بھی لیکن ریاست کا ماؤں جیسا سلوک اگر پوچھنا ہو تو بلوچستان میں ان بلوچ ماؤں سے جا کر پوچھو جن کے بیٹے غائب کردیے گئے۔ بیگم نصرت بھٹو بھی ان ماؤں سے مختلف نہیں تھی۔

اگرچہ اب بھی اس ملک میں راج ان کے میاں کے نام پر ہے۔ وہ جب تک زندہ رہی پی پی پی کی ’زندہ شہید‘ بن کر رہی۔

اصل ایران کے شہر اصفہان سے تعلق رکھنے والے مرزا عبدالطیف نے جب عراق میں نجف اشرف سے تعلیم مکمل کی تو وہ کچھ برسوں بعد اصفہان سے ہندوستان نقل وطن کر کر چلے گئے، جہاں تب کی بمبئی میں ’بغداد سوپ فیکٹری‘ صابن کا کارخانہ قائم کیا۔

نصرت کی پیدائش بھی بمبئي میں ہوئی تھی۔قدامت پسند لیکن قدرے وسیع المشرب ایرانی شیعہ خاندان کی اس لڑکی نے پہلی بغاوت برقعہ نہ پہن کر کی تھی ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ انیس سو چالیس کے اواخر تک ذوالفقار علی بھٹو نصرت صبونچی کو پہلی بار بمبئي کے قریب ہل اسٹیشن کھڈالہ کے مقام پر دیکھ چکے تھے لیکن انکی سرسری پہلی ملاقات تب ہوئی تھی جب انہوں نے انہیں اپنی نیوبیاہتا بہن کے گھر پر اسے فوجی وردی میں دیکھا تھا۔

اس وقت نصرت صبونچی پاکستان آرمی کے نیشنل گارڈز میں تھیں جہاں انکا عہدہ کیپٹن کے برابر تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو اس وقت فوجی وردی میں ملبوس یہ خوبصورت لڑکی اچھی نہیں لگی تھی لیکن انہوں نے بعد میں، جیسے ایک انٹریو میں بیگم نصرت بھٹو سے کہا تھا، کہ انہوں نے امریکہ سے اپنے ایک دوست کے ذریعے محبت کا پیغام کراچی بھجوایا تھا۔

خاندان میں بہت سے لوگوں کی ان سے ناراضگی کے باجوود یہ شادی انیس سو اکاون میں ہو گئي تھی۔ بیگم نصرت بھٹو اصل میں ذوالفقار علی بھٹو کی بہن منورالاسلام باالمعروف منا کی پکی سہیلی تھیں. ان کی دوسری دوسری پکی سہیلی بیگم جبیب اللہ تھیں جو کہ ایوب خان کی سمدھن تھیں۔

ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں وہ پی پی پی کے شعبہ خواتین و ہلال احمر پاکستان کی سربراہ تھیں۔‘ جب بھٹو حکومت نے انیس سو پچھتر کو خواتین کا سال کہہ کر منایا تو اس میں بھی وہ کافی سرگرم رہی تھیں۔

لیکن ان کا تاریخی سیاسی کردار اس وقت ابھرا جب فوجی آمر جنرل ضاءالحق کے ہاتھوں تختہ الٹنے کے بعد انہیں بھٹو نے اپنا سیاسی جانشیں مقرر کرتے ہوئے پی پی پی کی چیرپرسن بنایا تھا۔ بعد میں وہ اپنی بیٹی بینظیر بٹھو کے ساتھ ہی پی پی پی کی شریک چيئپرسن بنیں۔

بیگم نصرت بھٹو کا پاکستان میں بحالی جمہورت کے لیے بننے والی تحریک اور اپوزیشن پارٹیوں کے اتحاد ایم آر ڈی میں انتہائی اہم کردار رہا تھا۔

ضیاء الحق کے دنوں میں ستر کلفٹن میں کئي خفیہ ایجنیسوں کی نگرانی کے باوجود وہ پی پی پی سندھ کے اس وقت جیالے عبدالستار بچانی کی کار کی ڈگي میں چھپ کر ایم آر ڈی کے بنیادی اجلاس میں شرکت کرنے پہنچی تھیں۔

اور یہ بيگم نصرت بھٹو کی پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خاتمے میں سنجیدگی اور کمٹمنٹ تھی کہ بھٹو کے سخت مخالفین اصغر خان ، خان اولی خان، نوابزادہ نصراللہ جیسے رہنماؤں یہاں تک کہ محمد خان جونیجو تک کے ساتھ بیٹھنے پر رضامند ہوئي تھیں۔

وہ کافی عرصے تک اپنی بیٹی کےساتھ سہالہ ریسٹ ہاؤس اور ستر کلفٹن میں نظر بند رہیں۔

جب بینظیر بھٹو کے دوسرے دور حکومت میں مرتضی بھٹو اور بینظیر بھٹو میں اختلافات کھل کر سامنے آئے تو انہوں نے اپنے بیٹے کا ساتھ دیا جس پر ان کا پی پی پی کی شریک چیئرپرسن کا عہدہ بینظیر بھٹو کے تئيں واپس کرلیا گیا تھا۔

بیگم نصرت بھٹو اس وقت المرتضیٰ لاڑکانہ میں موجود تھیں جب مرتضی بھٹو کے کارکنوں کو بھٹو کی برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش جانے سے روکنے کے لیے پولیس نے ستر کلفٹن پرگولی چلائي تھی۔ اور شاید ایک کارکن ہلاک بھی ہوا تھا۔

’بعد میں بینظیر بھٹو نے آف دی ریکارڈ ایک غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے فوٹو جرنلسٹ کو بتایا تھا کہ ’میرے باپ کی قبر پر گولی چلنے کے بجائے میرے گھر پرگولی چلنا بہتر تھا۔‘

سب سے برا وار بیگم نصرت بھٹو پر ان کے بیٹے میر مرتضی بھٹو کی پولیس مقابلے میں بینظیر بھٹو کے دور حکومت میں ہی ان کے گھر سے چند سو گز کے فاصلے پر ہلاکت تھی جس کے بعد وہ صدمے سے کبھی باہر نہیں آ سکیں۔

بلکہ آلزائمیر جیسی بیماری کا شکار ہونے پر خود فراموشی کے عالم میں رہیں۔ وہ دبئي میں آصف علی زرداری اور بینظیر بھٹو کے زیر نظر زیر علاج رہیں۔

مرنے اور آخری رسومات کے وقت پی پی پی کے سینکڑوں کارکن تو سونا پور ہسپتال کے پاس موجود تھے لیکن پی پی پی کی قیادت اور ان کے خاندان کا کوئی فرد موجود نہیں تھا۔

اسی بارے میں