سیلاب زدگان کی امداد میں گھپلوں کی شکایت

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی( پی ڈی ایم اے )نے بعض غیرسرکاری تنظیموں کو بلیک لسٹ بھی کیا ہے

بلوچستان میں گزشتہ سال جولائی میں آنے والے سیلاب سے تیرہ اضلاع متاثرہوئے تھے لیکن حکومت کی جانب سے سب سے زیادہ متاثرہ دو اضلاع نصیرآباد اور جعفرآباد پر توجہ دی گئی۔لیکن وہاں بھی ایک سال گزرنے کے بعد امدادی کاموں کے بارے میں عدم اطمینان ظاہر کیا گیا ہے۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق گزشتہ سال جولائی میں بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے لیے ملکی اور بیرونی امداد بڑے پیمانے پرآئی تھی لیکن بعض حکومتی اور غیر سرکاری اداروں کی جانب سے متاثرین کے لیے ملنے والے امداد میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر خورد برد ہوئی ہے۔

تاہم دوسری جانب بعض سیاست دانوں اور ذمہ دارسرکاری حکام کی سرپرستی میں لوگوں نے سیلاب آنے کے بعد راتوں رات مختلف ناموں سے نئی تنظیمیں بنالیں تاکہ متاثرین کے نام پر ملنے والے امداد میں خورد برد کیاجا سکے۔

سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

ان تنظیموں کو پی ڈی ایم اے اور بعض بین الاقوامی اداروں کی جانب سے بھی کروڑوں روپے فنڈز جاری ہوئے۔ جس کے خلاف نصیرآباد اور جعفرآباد میں متاثرین نے کئی بار نہ صرف احتجامی مظاہرے کیے بلکہ حکومت سے بدعنوانی میں ملوث تنظیموں خلاف سخت کارروائی کرنے کا بھی مطالبہ کر رہے تھے۔

صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی( پی ڈی ایم اے )نے بعض غیرسرکاری تنظیموں کو بلیک لسٹ بھی کیا ہے۔

بلوچستان میں دوران سیلاب امن وامان کا مسئلہ بھی موجود رہا جس کی بنیاد پر صوبائی حکومت نے بین الاقوامی اداروں کو ان اضلاع میں غیرسرکاری اداروں کی جانب سے ہونے والے کاموں کی نگرانی کے لیے جانے سے بھی روک دیا تھا۔

کوئٹہ میں ایک غیرسرکاری تنظیم ایس پی او کے سربراہ مختیار چھلگری کے مطابق پہلے مرحلے میں حکومت نے سیلاب سے متاثرہ خاندانوں سے شناختی کارڈ لے کر ان کے لیے ٹوکن سسٹم بنایا۔جس کی بنیاد پرمتاثرہ خاندانوں کو خوراک ملتی رہی۔اس وقت خوراک والی ٹوکن کی قیمت پانچ سے دس ہزار روپے ہوتی تھی۔

دوسرے مرحلے میں متاثرہ اضلاع میں زمینداروں کو کھاد اور بیج کے لیے بیس سے تیس ہزار روپے فی ٹوکن جاری ہوا وہ ٹوکن بازار میں دس سے پندرہ ہزارروپے تک فروخت ہوا۔

جبکہ تیسرے مرحلے میں اقوام متحدہ کی جانب سے متاثرین کے لیے دس ہزار مکانات تعمیر کرنے کا اعلان ہوا لیکن متاثرین کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہے۔ اور اب گھروں کی تعمیر کا کام شروع تو ہوچکا ہے۔جس کے تحت ایک مکان کی تعمیر کے لیے فی ٹوکن کی قیمت ایک لاکھ ساٹھ ہزار روپے مختص کی گئی ہے۔

لیکن متاثرین کا مطالبہ ہے کہ مکانات کی تعمیر کا کام سردیاں شروع ہونے سے قبل ہی مکمل ہونا چاہیے۔

تاہم کوئٹہ میں ایک غیرسرکاری تنظیم ’سحر‘ کے سربراہ عبدالودود نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کے مکانات تعمیر کرنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہے جبکہ اقوام متحدہ کی جانب سے صرف تین ماہ کا وقت متعین کیاگیا ہے۔ جس کے باعث غیرسرکاری تنظیموں کو کئی مشکلات کا سامنا ہے۔

انہوں نے مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے علاقے کا سروے کرنا پڑتا ہے بعد میں پی ڈی ایم اے سے این اوسی لینا پڑتا ہے جس کے جاری کرنے میں بعض اوقات رکاوٹیں بھی ڈالی جاتی ہیں۔

اس کے علاوہ متاثرہ علاقوں میں مکانات کی تعمیر کے لیے مقامی سطع پر نہ تواینٹ دستیاب ہیں اور نہ سیمنٹ۔ دیگر سامان بھی سندھ ، پنجاب یا پھر بلوچستان کے محتلف علاقوں سے خرید کر وہاں پہنچانا پڑتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مکانات کی تعمیر کے لیے متاثرین کو ٹوکن جاری ہو چکے ہیں لیکن ان میں زیادہ تر ان لوگوں کو ملے جو سیاسی اثرو رسوخ رکھتے ہیں۔

تاہم سینیئر صوبائی وزیر مولانا عبدالواسع نے حکومتی اداروں کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی سامان اوررقم میں خرد برد کی تردید کرتے ہوئےالزام لگایا کہ غیرسرکاری اداروں کی جانب سے سامان کی تقسیم اور گھروں کی تعمیر میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں حکومت کومعلوم ہی نہیں ہوتا ہے کہ کس علاقے میں کونسی این جی او کتنا فنڈ خرچ کر رہی ہے اور نہ ہی حکومت کے پاس ان کاحساب کتاب رکھنے کا کوئی اختیار موجود ہے۔

جہاں تک صوبائی حکومت کا تعلق ہے توصوبائی حکومت بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتی کیونکہ ان کے فنڈ اور تنخواہیں صو بائی حکومت کی جانب سے نہیں جاتی اور نہ ہی وہ صوبائی حکومت کو جوابدہ ہیں۔

تاہم مولانا عبدالواسع نے کہا کہ صوبائی حکومت کو ان غیرسرکاری تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں کے خلاف سخت کاروائی کرنی چاہیے جو بلوچستان میں سیلاب متاثرین کے لیے امداد میں بدعنوانی کے مرتکب ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں