ٹانک: امن کمیٹی کے سربراہ ہلاک

فائل فوٹو، امن لشکر تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption اس قسم کے واقعات کی ذمہ داری اکثر طالبان قبول کرتے رہتے ہیں

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع ٹانک میں نامعلوم مُسلح افراد نے طالبان مخالف امن کیمٹی کے سربراہ کو فائرنگ کر کے ہلاک کردیا ہے۔

حکام کے مطابق ٹانک میں تحریک طالبان پاکستان بیت اللہ گروپ کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کے خلاف حکام نے دو ہزار نو میں ایک امن کیمٹی قائم کی تھی۔جس میں ٹانک کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ جنوبی وزیرستان کے لوگ شامل تھے۔

ٹانک میں ایک اہلکار شیر افضل نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ پیر کی صبح دو موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد نے ٹانک بازار سے کوئی بیس کلومیٹر دور جنوب کی جان تحصیل گومل میں امن کمیٹی کے سربراہ غلام ایاز کوگولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ موجود امن کمیٹی کے ایک رضاکار گل محمد محسود شدید زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس اہلکار کے مطابق امن کیمٹی کے سربراہ غلام ایاز پیدل تھے اورگومل بازار کے بس سٹینڈ میں موجود تھے۔

انہوں نے کہا کہ نامعلوم حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ پولیس نے پورے علاقے کی ناکہ بندی کی ہے اور مُلزمان کی تلاش جاری ہے۔

اس واقعہ کی ابھی تک کسی نے ذمہ داری قبول نہیں کی ہے البتہ اس قسم کے واقعات کی ذمہ داری اکثر طالبان قبول کرتے رہتے ہیں۔

یاد رہے کہ دو سال پہلے ٹانک میں سکیورٹی فورسز اور پولیس پر شدت پسندوں کے حملے میں اضافے کے بعدان کو امن کمیٹی کا سربراہ مقرر کیا تھا۔

اہلکار کے مطابق ہلاک ہونے والے امن کیمٹی کے سربراہ حکومت کے حمامی قبائلی سرداروں میں شمار ہوتے تھے اور جنوبی وزیرستان میں تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کے بعد وہ علاقے میں امن و امان قائم کرنے میں پیش پیش تھے۔

خیال ہے کہ اس سے قبل جنوبی وزیرستان میں دو سو سے زائد سرکردہ قبائلی سرداروں یا ان کے رشتہ داروں کو حکومت نواز ہونے کی وجہ سے ہلاک کیا جا چکا ہے۔

تاہم تحریک طالبان پاکستان کا کہنا ہے کہ تمام قبائلی علاقوں میں موجود امن کیمٹی کے لوگوں اور حکومت کے حامی قبائلی سرداروں کو نشانہ بنائیں گے اور وہ ایک منظم طریقے سے ان لوگوں کے پر حملے کرنے میں مصروف ہیں۔

اسی بارے میں