نایاب آوازوں کا ذخیرہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ملک محمد شفیع نے آڈیو کیسٹ پلئیرز، ریڈیو ٹرانسسٹرز اور گراموفون وغیرہ کی مرمت کا ہنر بھی سیکھ رکھا ہے۔

کچھ دن قبل پاکستان میں پنجاب کے جنوبی ضلع لیہ جانے کا اتفاق ہوا تو وہاں ایک محفل میں پتہ چلا کہ اس علاقے میں ایک بزرگ کے پاس پاکستان اور ہندوستان کےایک ہزار سے زائد گلوکاروں کے گانوں کی لائبریری ہے۔ یہ سنتے ہی میں نے تہیہ کر لیا کہ لیہ چھوڑنے سے قبل اس منفرد شخص سے ملاقات کرنی ہے۔

چنانچہ اگلے ہی دن ایک دوست کے توسط سے لیہ شہر سے لگ بھگ پندرہ کلومیٹر شمال مشرق میں دریائے سندھ کے غربی کنارے پر آباد بستی ملانہ میں مقیم ملک محمد شفیع کے پاس جا پہنچے۔ ملک محمد شفیع کو مدھر اور نایاب آوازیں جمع کرنے کا شوق ہے۔ان کے بقول وہ اس شوق کے اسیر اس وقت ہوئے جب لڑکپن میں ان کے والدین ان سے جداہوئے۔ یہ پیشے کے لحاظ سے کاشتکار ہیں مگر موسیقی کے شوق میں انھوں نے آڈیو کیسٹ پلئیرز، ریڈیو ٹرانسسٹرز اور گراموفون وغیرہ کی مرمت کا ہنر بھی سیکھ رکھا ہے۔

ملک محمد شفیع کے مطابق گزشتہ پینتالیس برس سے اب تک وہ پاک و ہند کے ایک ہزار سے زائد مغنیوں کی آوازیں جمع کر چکے ہیں۔ ملک محمد شفیع کو اپنی ماں بولی سرائیکی سے بے انتہا محبت ہے۔ اسی بنا پر ان کا دعویٰ ہے کہ پاک و ہند کے جن سرائیکی گلوکاروں کی آوازیں ان کے پاس ہیں وہ شاید ہی کسی کے پاس ہوں۔

ان گلوکاروں میں مس بدرو ملتانی، زاہدہ پروین، عنایت بائی دھیرو والی، اللہ وسائی بہاولپور والی، پنڈت دینا ناتھ، محمد نواز، استاد بڑے غلام علی خان اور دیگر کئی نامور مغنی شامل ہیں۔

ملک شفیع کا کہنا ہے کہ نادر و نایاب آوازیں جمع کرنا محض ان کا ہی مشغلہ نہیں بلکہ پاکستان کے کئی چھوٹے بڑے شہروں میں اور لوگ بھی موجود ہیں جن کے پاس یاد گار آوازوں کا خزینہ ہے۔

ملک شفیع کے مطابق کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے ماسٹر منظور بلوچ، بہاول پور کے محمد خالد، ملتان کے کارپینٹر محمد علی اور لاہور سے تعلق رکھنے والے احمد خان، محمد رفیق اور چودھری یعقوب ایسے شوقین لوگوں کے پاس گانوں کی قدیم و زخیم لائبریریاں ہیں۔

انھوں نے بتایا ’یہ کن رس لوگ نہ صرف ایک دوسرے کے معاون ہیں بلکہ اپنے شوق کی آبیاری کے لیے سالانہ مقابلے کا اہتمام بھی کرتے ہیں۔‘ ملک شفیع نے بتایا کہ ہر سال بھادوں کے مہینے میں صوبہ بلوچستان کے شہر کوئٹہ میں ماسٹر منظور بلوچ مقابلے کا اہتمام کرتے ہیں جس میں لوگ نادر و نایاب گیت لانے کے پابند ہوتے ہیں۔ اس مقابلے میں جس کا گیت حاضرین زیادہ پسند کرتے ہیں انہیں انعام و اکرام اور شاباش سے نوازا جاتا ہے۔

ستر سالہ ملک شفیع کوآج بھی علاقے کے لوگ ان کے شوق کے پیش نظر ’پروانہ‘ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ ان کے پاس سُریلے گیتوں کا مجموعہ ہی نہیں بلکہ نامور سرائیکی گلوکاروں سے وابستہ دلچسپ یادوں کا ذخیرہ بھی موجود ہے۔

ملک شفیع کا کہنا ہے کہ کثیر پیسہ اور وقت خرچ کرنے بعد جمع کیا گیا ان کا یہ سرمایہ اہلِ ذوق لوگوں کا ورثہ ہے۔ وہ لوگوں کو ان کی من چاہی آوازیں بلامعاوضہ فراہم کرتے ہیں۔ مگران کی اس منفرد وراثت میں بے ذوق لوگوں کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے۔