ڈینگی:اعداوشمارغلط، شہبازشریف کا اعتراف

تصویر کے کاپی رائٹ afp

وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے پہلی مرتبہ اعتراف کیا ہے کہ ڈینگی مریضوں کے بارے میں سرکاری اعداد و شمار سو فی صد درست نہیں ہیں اور مریضوں کی تعداد یقیناً اس سے زائد ہے۔

یہ بات انہوں نے ماڈل ٹاؤن لاہور میں ایوان وزیراعلی میں ایک اعلی سطحی صوبائی اجلاس سے خطاب کے دوران کہی۔

اجلاس میں خصوصی طور پر مدعو کیے گئے تین اخبار نویسوں نے سرکاری رپورٹوں کے بارے میں کہا کہ یہ حقائق کی صحیح طور پر عکاسی نہیں کرتیں۔

مقامی چینل کے ایک نمائندے نے کہا کہ بیورو کریسی صحیح بات وزیراعلی تک نہیں پہنچنے دے رہی۔افسران سارا وقت وزیراعلی کی خدمت میں حاضر رہتے ہیں اور عام آدمی کی ان تک رسائی ناممکن ہوکر رہ گئی ہے۔

ایک اور صحافی نے کہا کہ ڈینگی کے علاوہ ایک اور نئی طرح کا مچھر بھی موجود ہے جو جان لیوا ہے اس کی جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

ان دونوں صحافیوں کے ان ریمارکس کے علاوہ بھی میڈیا نے وزیراعلی کو کہا کہ مریضوں کے بارے میں جو اعدادوشمار جاری کیے جارہے ہیں وہ اصل سے بہت کم ہیں۔

صحافیوں نے مثال دی کہ لاہور کا ہر شہری اگر خود ڈینگی میں مبتلا نہیں تو کم از کم اس کے پانچ سات جاننے والے ڈینگی کے باقاعدہ مریض ہیں یا رہ چکے ہیں۔اس بات کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو ستر اسی لاکھ نفوس کے شہر میں محض پندرہ ہزار مریضوں کی بات غلط لگتی ہے۔

وزیراعلی کی توجہ میاں نواز شریف کے اس خطاب کی جانب مبذول کرائی گئی جو گذشتہ مہینے جناح ہسپتال کے دورے کے دوران انہوں نے دیا تھا۔اس بیان میں میاں نواز شریف نے کہا تھا کہ چوبیس گھنٹوں کے دوران جناح ہسپتال میں دس ہزار مریضوں نے ڈینگی کا ٹیسٹ کرایا اور صرف دس فی صد ڈینگی کے مریض پائے گئے۔

وزیراعلی کو کہا گیا کہ اگر نواز شریف کا بیان درست ہے تو صرف ایک ہسپتال کے مریضوں کی تعداد ایک ہزار ہے جبکہ اسی شام محکمہ صحت نے پورے پنجاب کے نجی اور سرکاری ہسپتالوں مریضوں کی تعداد لگ بھگ ساڑھے چار سو بتائی تھی۔

ایک صحافی نے وزیر اعلی کو کہا کہ مچھر مار سپرے کرنے والی گاڑی نے ان کے گھر کے اندر تک سپرے کیا لیکن مچھروں کی تعداد میں کمی نہیں آئی۔

وزیراعلی نےجواباً کہا کہ یہ بات تو درست ہے کہ مریضوں کی اصل تعداد زیادہ ہےاور صحیح اعداد و شمار سامنے نہیں آسکے البتہ انہوں نے کہا کہ لاہور میں کیے جانے والے سپرے کی بین الاقوامی ماہرین نے جانچ کی اور اسے درست تسلیم کیا گیا۔

سپیشل برانچ کے سربراہ ناصر درانی نے دو ایسی ادویات کی نشاندہی کی جن میں سے ایک دوگنی قیمت اور دوسری پچیس فی صد اضافے کے ساتھ فروخت ہو رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جن جگہوں کو کچرے سے صاف کیا گیا ان مقامات پر مقامی شہریوں نے دوبارہ کچرے کے ڈھیر لگا دیئےہیں۔

اس کے علاوہ بتیس مقامات کا بتایا گیا جہاں سے کچرے کے ڈھیر اٹھائے ہی نہیں گئے۔

دو درجن کے قریب ایسی ٹائر دکانوں کے بارے میں بتایا گیا جہاں حکومت پنجاب کی وضع کردہ احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں ہورہا۔

دو منٹ تک جاری رہنے والی ایک کارکردگی رپورٹ ایسی تھی جس میں ایک افسر ایک ہسپتال میں صفائی کے اس کام کی تصویریں دکھاتا رہا جس کام کی لاگت ہی صرف ساڑھے گیارہ ہزار روپے تھی۔

واضح رہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس سیزن کے دوران پنجاب میں ڈینگی کے انیس ہزار اور لاہور میں سولہ ہزار متاثرین رجسٹرڈ کیے گئے جبکہ تقریبا پونے تین سو افراد ڈینگی مچھر کاٹنے سے ہلاک ہوئے۔