نصرت بھٹو کا سوئم، زرداری علیحدہ، بھٹو علیحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بیگم نصرت بھٹو طویل علالت کے بعد گزشتہ اتوار دبئی میں وفات پا گئی تھیں

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی بیوہ بیگم نصرت بھٹوکے سوئم کی تقریب بدھ کو نوڈیرو میں ہوئی جس میں ملک بھر سے پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو بتایا کہ سوئم کی تقریب کے بعد پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلسِ عاملہ کا اجلاس ہوا۔

ان کےمطابق اجلاس کا ایک نکاتی ایجنڈا نصرت بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کرنا تھا۔

پارٹی کی مجلسِ عاملہ کے اجلاس کی صدارت چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور شریک چیئرمین صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے مشترکہ طور پر کی۔

بیگم نصرت بھٹو طویل علالت کے بعد گزشتہ اتوار دبئی میں وفات پا گئی تھیں انہیں پیر کی شام بھٹو خاندان کے آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش میں ان کے شوہر سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پہلو میں سپردِ خاک کردیا گیا تھا۔

بیگم نصرت بھٹو کی میت تو ایک ہی تھی لیکن تعزیت کا سلسلہ ہو یا سوئم کی تقریبات، دو علیحدہ علیحدہ مقامات یعنی نوڈیرو اور المرتضیٰ ہاؤس میں منعقد ہوئیں۔

نوڈیرو جو سابق وزیرِاعظم بینظیر بھٹو کی رہائش گاہ اور صدارتی کیمپ آفس بھی ہے وہاں صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، بختاور اور آصفہ موجود ہیں جبکہ المرتضیٰ ہاؤس میں مرتضیٰ بھٹو کی بیوہ غنویٰ بھٹو، فاطمہ بھٹو اور ممتاز بھٹو سوئم کی تقریب منعقد ہوئی۔

بھٹو خاندان میں سیاسی اور خاندانی بٹوارا تو بیگم نصرت بھٹو کی زندگی میں تقریباً بیس برس قبل اس وقت ہوگیا تھا جب ان کی بیٹی بینظیر بھٹو اور بڑے صاحبزادے میر مرتضیٰ بھٹو نے راہیں جدا کر لی تھیں۔

پیر کو جب نصرت بھٹو کی تدفین ہوئی تو صدر آصف علی زرداری نے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے اعلیٰ افسران اور سردار عامر بھٹو کو غنویٰ بھٹو کے پاس بھیجا کہ وہ علیحدہ تعزیت وصول کرنے کے بجائے نوڈیرو آ جائیں یا کم از کم تدفین میں شرکت کریں لیکن لاش پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

جس پر غنویٰ بھٹو نے یہ کہتے ہوئے معذرت کر لی تھی کہ نصرت بھٹو کے شوہر اور بیٹے کا گھر المرتضیٰ ہے لہٰذا ان کی میت وہاں سے اٹھنی چاہیے۔ لیکن بیگم نصرت بھٹو کے چار بچوں میں سے واحد زندہ بیٹی صنم بھٹو نے اپنی والدہ کا جنازہ اپنی بہن بینظیر بھٹو کی رہائش گاہ نوڈیرو سے اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

تدفین میں قریبی رشتہ داروں اور پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنماؤں کے علاوہ کسی کو آنے نہیں دیا گیا اور میت کو لحد میں پوتے ذوالفقار جونیئر کی بجائے نواسے بلاول بھٹو زرداری نے اتارا۔

عینی شاہدین کے مطابق ایک موقع پر وزیرِداخلہ رحمٰن ملک نے جب میت لحد میں اتارنے کی کوشش کی تو صدرِ زرداری نے انہیں روک دیا اور بھٹو خاندان کے افراد نے رحمٰن ملک کو بازو سے پکڑ کر وہاں سے ہٹا دیا۔

ڈاکٹر ذوالفقار مرزا جو بظاہر پیپلز پارٹی کی قیادت سے ناراض ہیں انہیں تدفین میں شرکت کے وقت کچھ دیر کے لیے روکا گیا تھا لیکن بعد ازاں اجازت ملنے پر انہیں نوں ڈیرو ہاؤس جانے کی اجازت مل گئی۔

اسی بارے میں