’افغان مصالحتی عمل کی ضمانت نہیں دے سکتے‘

تصویر کے کاپی رائٹ

پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ افغانستان میں مصالحتی عمل شروع کرنے کے بارے میں پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا اور نہ ہی پاکستانی حکومت کو یہ بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں مصالحت کے کیا اہداف ہیں۔

راولپنڈی میں بدھ کو اپنے دفتر میں بی بی سی اردو سروس سے انٹرویو کے دوران جنرل اطہر عباس نے کہا کہ پاکستان صرف اسی صورت میں افغان مصالحتی عمل کی مدد کر سکتا ہے جب اسے اعتماد میں لیا جائے۔

’وہ فیصلہ کہ جس میں کوئی روڈ میپ طے ہونا ہے، جس میں مصالحتی عمل کی کوئی شکل طے ہونی ہے، اس کے بارے میں ہمیں ابھی تک آگاہ نہیں کیا گیا ہے۔ ہمیں اس میں شریک نہیں کیا گیا ہے‘۔

فوج کے ترجمان نے کہا کہ اس مصالحتی عمل میں کون شامل ہے اور اس کے کیا اہداف ہیں، ہمیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔

’یہ ایک بنیادی فیصلہ ہے کہ افغان تنازع اب مصالحت کی جانب جا رہا ہے۔ اس کے اندر یہ طے ہونا چاہیے کہ کس کا کیا کردار ہو گا۔ اس کا تسلسل کیا ہوگا اور اس کے اندر ہمارا کیا کردار ہو گا۔ اس کے بعد ہم بتا سکیں گے کہ آیا ہم اس پوزیشن میں ہیں کہ اِس گروہ کو یا اُس گروہ کو اس عمل میں شامل کرا سکتے ہیں۔ لیکن اس مصالحتی عمل کے انجام کی ہم ضمانت نہیں دے سکتے کیونکہ کوئی بھی گروپ ہماری جیب میں نہیں ہے‘۔

پاکستانی فوج کے تعلقات عامہ کے شعبے کے سربراہ نے پاکستانی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے طالبان شدت پسندوں کے ساتھ مبینہ تعلقات اور افغانستان میں مزاحمت کی مبینہ حمایت کے بارے میں بی بی سی کی دستاویزی فلم پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی فوج ایسے یک طرفہ اور بے بنیاد پراپیگنڈے پر مبنی فلم دکھانے پر بی بی سی کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہے۔

اس رپورٹ میں امریکی اور افغان انٹیلی جنس اہلکاروں اور بعض شدت پسندوں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان افعانستان میں مزاحمت کاروں کی مدد کر رہا ہے۔

جنرل اطہر عباس نے کہا کہ یہ بیہودہ بات ہے کہ پاکستانی ایجنسی ان عناصر کی مدد کر رہی ہیں جو انہی کے لوگوں کو مار رہے ہیں۔

’اس جنگ میں آئی ایس آئی کہ ساڑھے تین سو اہلکار شہید ہو چکے ہیں۔ ایسے میں کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ یہ ایجنسی ان لوگوں کا ساتھ دے گی‘۔

میجرجنرل اطہر عباس نے پاکستان میں ہونے والے بعض خودکش حملوں کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے حملوں میں ایک ہی قسم کے لوگ شامل ہیں۔

ایک سوال پر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ پاکستان کے دورے کے دوران امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن سے بھی اس موضوع پر بات ہوئی تھی اور پاکستانی اعلیٰ فوجی قیادت نے اس بارے میں اپنا موقف کھل کر امریکی وزیرخارجہ کے سامنے رکھ دیا تھا اور انہیں بتادیا تھا کہ پاکستان پر شدت پسندوں کی حمایت کے الزامات سے کسی کا بھلا نہیں ہو رہا۔

’اعلٰی فوجی قیادت نے امریکی وزیر خارجہ سے کہا تھا کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے ہماری کوششوں میں اگر کوئی ہماری مدد نہیں کر سکتا تو اس میں روڑے اٹکانے کی کوشش بھی نہ کرے‘۔

جنرل اطہر عباس نے کہا کہ یہ روّیہ افغانستان میں قیام امن اور دہشت گرد گروپوں کے خاتمے کے اہداف کے حصول میں رکاوٹ بن رہا ہے۔

’اس طرح کے الزامات یہ مسئلہ حل کرنے کی کوشش میں مصروف فریقوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر سکتے ہیں جس کا فائدہ شدت پسندوں کے علاوہ کسی کو نہیں ہو گا‘۔

پاکستانی فوجی ترجمان نے کہا کہ افعانستان میں قیام امن کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا اور اس ہدف کے حصول کے لیے پاکستان اپنے طریقے سے کام کر رہا ہے۔

’ہماری پالیسی ہمارے اپنے وسائل اور مسائل کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہے جو شائد انہیں زیادہ پسند نہیں آ رہی کیونکہ ان کی اپنی ترجیحات اور وقت کی کمی کے مسائل ہیں۔ اس لیے ہماری درخواست یہ ہے کہ ہم پر تنقید کے بجائے وہ ہمارے مسائل اور وسائل سامنے رکھ کر ہمارا نکتہ نظر اور پالیسی سمجھنے کی کوشش کریں‘۔

جنرل اطہر عباس نے کہا کہ پاکستان اور افغان تنازعے کے دیگر فریقوں کے درمیان غلط فہمیاں پھیلانے کی کوششوں میں افغان انٹیلی جنس کے ان سابق افسران کا اہم کردار ہے جو کہ افغان انٹیلی جنس سے نکالے گئے ہیں۔

’ہمیں دیکھنا پڑے گا کہ این ڈی ایس (افغان انٹیلی جنس) کے ان سابق افسران کی باتیں کیوں پھیلائی جا رہی ہیں اور انہیں روکا کیوں نہیں جا رہا کیونکہ پاکستان اور دیگر اتحادیوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے میں ان لوگوں کا بڑا کردار ہے‘۔

اسی بارے میں