وزیرستان: ڈرون حملوں میں سات ہلاک

ڈرون
Image caption ہلاک ہونے والوں میں ملا نذیر کے بھائی حضرت عمر بھی شامل ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دو مختلف امریکی ڈرون حملوں میں سات شدت پسند ہلاک اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

یہ حملے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں گزشتہ بارہ گھنٹوں کے دوران ہوئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ دوسرا حملہ جمعرات کی شام تحصیل میر علی سے چار کلومیٹر دو عیسوخیل کے علاقے میں اس وقت ہوا جب ایک امریکی جاسوس طیارے سے شدت پسندوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی ڈرون طیارے سے چار میزائل داغے گئے جس میں تین شد پسند ہلاک اور چار زخمی ہوئے۔

دوسری جانب مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں تمام افراد غیر ملکی ہیں۔

تاہم بعض عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شدت پسند ایک سرکاری ٹیوب ویل کے ساتھ واقع کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران انھیں میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔

مقامی طالبان نے ہلاک ہونے والے افراد کی لاشیں اور زخمیوں کو کسی نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

واضح رہے کہ جمعرات کو وزیرستان میں ہونے والا یہ دوسرا ڈرون حملہ ہے۔

اس سے قبل جنوبی وزیرستان کے علاقے اعظم ورسک میں بھی امریکی جاسوس طیارے سے شدت پسندوں کی ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں طالبان کمانڈڑ ملا نذیر کے بھائی اور ان کے ایک اہم کمانڈر خان محمد سمیت چار افراد مارے گئے تھے۔

پہلے حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ملا نذیر کے بھائی حضرت عمر اور مقامی عسکریت پسندوں کے ایک اہم کمانڈر خان محمد شامل تھے۔

جنوبی وزیرستان کے ایک اعلی پولیٹکل اہلکار نے بتایا کہ پپہلا حملہ جمعرات کی صبح اعظم ورسک کے علاقے میں کیا گیا۔

اہلکار کے مطابق ملا ندیر گروپ کے شدت پسند ایک گاڑی میں انگور آڈہ سے صدر مقام وانا آ رہے تھے کہ اعظم ورسک کے علاقے زالی میں سکواٹس قلعہ کے قریب ایک امریکی جاسوس طیارے نے ان کی گاڑی کو میزائل حملے میں نشانہ بنایا۔

یاد رہے کہ اس حملے میں مارے جانے والے شدت پسند کمانڈر خان محمد کا شمار ملا نذیر کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔ ان کا تعلق وزیر قبیلے کی شاخ یارگل خیل سے تھا۔ وہ طالبان کمانڈر نیک محمد کے رشتہ دار بھی بتائے جاتے ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ خان محمد افغانستان میں زیادہ سرگرم تھے اور وہاں ملا نذیر گروپ کے مقامی طالبان کی سرگرمیوں اور دیگر امور کے نگرانی کرتے تھے۔

اسی بارے میں