سپاٹ فکسنگ، جیوری فیصلےمیں ناکام

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق کپتان سلمان اور فاسٹ بولر محمد آصف نے اپنے آپکو کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ محمد عامر اور ایجنٹ مظہر مجید مقدمے کی کارروائی کے دوران غیر حاضر رہے

پاکستانی کھلاڑیوں کےخلاف سپاٹ فکسنگ کے مقدمے کی سماعت کرنے والی بارہ رکنی جیوری دو روز کے غور و غوض کے باجود کسی فیصلے پر پہنچنے میں ناکام ہو گئی ہے۔

بارہ رکنی جیوری نےجمعرات اور جمعہ کو تین ہفتوں سے جاری مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لیے سارا دن صرف کیا لیکن کسی فیصلے پر پہنچنے میں ناکام رہی۔جیوری اب پیر کو ایک بار پھر اکھٹی ہوگی۔

ٹرائیل جج جرمی کک نے جیوری سے کہا تھا کہ وہ کسی متفقہ فیصلہ پر پہنچنے کی کوشش کرے۔

لندن کی عدالت میں جاری سپاٹ فکسنگ کے مقدمےمیں منگل کو دلائل کے خاتمے کے بعد ٹرائل جج نے دو روز تک شہادتوں کو جیوری پر واضح کرنے میں صرف کیے اور اس کے بعد جیوری کو فیصلے کرنے کے لیے ریٹائر کر دیا۔

جعمہ کو جیوری پورا دن ساوتھ وارک کی عدالت کے ساتھ ایک ملحقہ کمرے میں بند رہی۔ جیوری کے ممبران نے ایک بار کمرہ عدالت میں واپس آ کر سابق کپتان سلمان بٹ اور ایجنٹ مظہر مجید کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ٹیپ سنی۔ نیوز آف دی ورلڈ کے رپورٹر مظہر محمود نے خفیہ طور پر ریکارڈنگ کی تھی۔

سپاٹ فکسنگ کےمقدمے میں پاکستان کےسابق کپتان سلمان بٹ اور فاسٹ بولر محمد آصف نے جرم سے انکار کیا ہے۔ سابق کپتان سلمان اور فاسٹ بولر محمد آصف نے اپنے آپکو کو بے گناہ ثابت کرنے کی کوشش کی۔ محمد عامر اور ایجنٹ مظہر مجید مقدمے کی کارروائی کے دوران غیر حاضر رہے۔

ایک برطانوی اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ نے سلمان بٹ، محمد آصف اور نوجوان کھلاڑی محمد عامر پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے جان بوجھ کر پہلے سے متعین اوورز میں نو بال پھینکے کے لیے مبینہ طور پر بھاری رقم وصول کی تھی۔

ساؤتھ وارک کی عدالت کو بتایا گیا تھا ان کھلاڑیوں نے برطانیہ میں مقیم ایجنٹ مظہر مجید کے ساتھ مل کر انگلینڈ کے خلاف آخری ٹیسٹ میں میچوں کے کچھ حصوں کے بارے میں طے کیا تھا کہ ان میں کیا کرنا ہے۔

دلائل کے اختتام پر ٹرائل جج جرمی کک نے شہادتوں کے قانونی پہلوؤں وضاحت کرتے ہوئے جیوری کو بتایا تھا کہ فیصلہ کرتے وقت فاسٹ بولر محمد عامر اور کھلاڑیوں کے ایجنٹ مظہر مجید کو سپاٹ فکسنگ میں ملوث تصور کرے۔