مشرف اور شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتاری

نواب اکبربگٹی تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption نواب اکبربگٹی چھبیس اگست سال دوہزار چھ میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بلوچستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے دو ران اپنے ساتھیوں سمیت ہلاک ہوئے تھے۔

ممتاز بلوچ قوم پرست رہنما نواب محمداکبرخان بگٹی کے مقدمہ قتل میں نامزد پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل (ر) پرویز مشرف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔

گرفتاری کے یہ وارنٹ کوئٹہ میں بلوچستان ہائی کورٹ کے ایک حکم پر جاری کیے گئے ہیں۔

وارنٹ گرفتاری پر تبصرہ کرتے ہوئے نواب بگٹی قتل کیس کی پیروی کرنے والے وکیل ہادی شکیل ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ سابق صدر اور سابق وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے میں چھ سال کی تاخیر حکومتی بدنیتی کے عندیہ دیتی ہے۔ یہ وارنٹ تو اُسی دن جاری ہونے چاہیں تھے جب نواب بگٹی کا قتل ہواتھا۔

وارنٹ گرفتاری کے احکامات کرائم برانچ کوئٹہ کوموصول ہوگئے اس سے قبل مذکورہ عدالت نے بلوچستان کے سابق وزیر داخلہ اور رکن صوبائی اسمبلی شعیب نوشیروانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔

تاہم نواب بگٹی کے صاحبزادے جمیل اکبر بگٹی کو ابھی تک اپنے والد کے مبینہ قاتلوں کی گرفتاری کا یقین نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ بیرون ملک بیٹھے ہوئے ہیں ان کے وارنٹ گرفتاری توجاری کیے جارہے ہیں لیکن جولوگ پاکستان میں موجود ہیں ان کے صرف بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ جمیل اکبربگٹی نے اپنے و الد نواب اکبربگٹی کے قتل کے الزام میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف، سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ، بلوچستان کے سابق گورنر اویس احمد غنی، سابق وزیراعلی بلوچستان میرجام یوسف اور سابق صوبائی وزیر داخلہ میر شعیب نوشیروانی کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبربگٹی چھبیس اگست سال دوہزار چھ میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بلوچستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے دو ران اپنے ساتھیوں سمیت ہلاک ہوئے تھے۔

اور ملک میں جمہوری حکومت کے قیام کے بعد سابق صدر جنرل پرویز مشروف اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز پاکستان چھوڑ کر جاچکے ہیں۔

اسی بارے میں