ڈرون: عالمی عدالتوں سے رجوع کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption حکومت کی طرف سے ڈرون حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی مالی معاونت نہیں کی گئی: جرگہ

وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف قبائلی عمائدین نے بین الاقوامی عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس ضمن میں بین الاقوامی ماہرین نے اُنہیں مکمل حمایت کا یقین دلایا ہے۔

قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کے خلاف قبائلی عمائدین کے جمعہ کے روز اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں قرارداد بھی متفقہ طور پر منظور کی گئی۔

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ قبائلی علاقے آئین کے آرٹیکل ایک کے تحت پاکستان کا حصہ ہیں اور موجودہ حکومت اور اس کے ادارے شہریوں کے بنیادی انسانی حقوق کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوچکی ہے۔

اس قرارداد میں امریکی دعوے کی تردید کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ان ڈرون حملوں میں کوئی بھی بےگناہ شخص ہلاک نہیں ہوا۔

اس قرارداد میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور اُن کے خصوصی مندوب برائے ماورائے عدالت قتل سے کہا ہے کہ امریکی اجارہ داری اور قبائلی عوام کے قتل عام کو روکنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کریں۔

قرار داد میں پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے کہا گیا ہے کہ وہ ان واقعات کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کروائیں۔

جرگے میں کہا گیا کہ حکومت کی طرف سے ان حملوں میں ہلاک اور زخمی ہونے والے افراد کی بھی کوئی مالی معاونت نہیں کی۔

قبائلی عمادین نے اس جرگے کے دوران رکن قومی اسمبلی کامران خان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو حکومت میں شامل ہونے کے باوجود امریکی ڈرون حملوں کو رکوانے کے لیے اپنا موثر کردار ادا نہیں کیا۔

کامران خان نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں سے متعلق فوج کی اعلیٰ قیادت نے ارکان پارلیمنٹ کو ان کمیرہ بریفنگ دی تھی تو اُنہیں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی فوج ڈرون گرانے کی صلاحیت رکھتی ہے لیکن اس کے بعد کے نتائج بھگتنے کے لیے پاکستانی عوام تیار رہے۔

اُنہوں نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ پوری قوم اُن کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہے۔

کامران خان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کتنی موثر ہے یہ کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے جب تک پورا ملک ان حملوں کے خلاف ایک آواز ہوکر احتجاج نہیں کرتا اُس وقت تک یہ جرگے اور قراردادیں موثر ثابت نہیں ہوں گی۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے جرگے کے عمائدین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن کو فوری بند کیا جائے اور قبائلی علاقوں کے عمائدین کو یہ اختیار دیا جائے کہ وہ اپنے لوگوں سے بات کریں۔

اسی بارے میں