گملے میں جمہوریت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جناح نے اپنی خرید کردہ زمین میں جمہوریت کو ترتیب وار قطار اندر قطار کاشت کرنے کی کوشش کی لیکن ان کے آنکھوں کے سامنے ہی بکریوں نے منہ مارنا شروع کردیا تھا

جن ممالک میں جمہوری اقدار مضبوط جڑیں پکڑ چکی ہیں وہاں ہر مرتبہ سیاسی قیادت کی نئی پنیری لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ قربانیوں کے پانی، اصولوں کی کھاد ، فہم و فراست کے سپرے ، زمانہ شناسی کی بارش اور تحمل و برداشت کی گوڈی سے زمین اتنی زرخیز ہوچکی ہے کہ جھاڑ جھنکار کے باوجود قد آور پودے سر نکال ہی لیتے ہیں ۔ ان میں سے متعدد پودے تناور گھنے درخت بن جاتے ہیں۔

کبھی کبھی ہوا ان درختوں کے بیج ساتھ کے کھیتوں میں بکھیر دیتی ہے اور کبھی یہ بیج دور افتادہ زمینوں میں تجرباتی کاشت کے لیے لے جائے جاتے ہیں۔کہیں یہ جڑ پکڑ لیتے ہیں۔کہیں ان بیجوں سے پودے نکلتے ہیں مگر بکریاں کھا جاتی ہیں اور کچھ زمینیں اس قدر پتھریلی ہوتی ہیں کہ بیج پھوٹ ہی نہیں سکتے۔

کئی علاقوں میں جمہوریت کی کاشت ترتیب وار قطار اندر قطار کی جاتی ہے اور جب فصل پوری نمو پاجاتی ہے تو آنکھوں کو بھلی لگتی ہے اور منافع بخش بھی ہوتی ہے۔کئی معاشروں میں جمہوری بیج مٹھی بھر کے بکھیر دیئے جاتے ہیں۔ فصل تو ہوجاتی ہے مگر دیکھنے میں منتشر یا جھاڑ جھنکار کا تاثر دیتی ہے۔ اور کئی ممالک جن کی زمین پتھریلی ہوتی ہے وہاں شوق کی خاطر جمہوریت گملوں میں بوئی جاتی ہے۔ بہت سارے گملوں میں طرح طرح کے پودے ہوں تو آنکھوں کو تراوٹ بھی دیتے ہیں اور آنے جانے والا شوقِ باغبانی کی تعریف بھی کرتا رہتا ہے۔

لیکن گملوں کی مشکل یہ ہے کہ ان میں لگا پودا کبھی بھی مضبوط درخت نہیں بن سکتا۔البتہ باغبان کو ضرور یہ آسانی رہتی ہے کہ وہ ہر سیزن میں پرانوں کی جگہ نئے اور زیادہ بھلے لگنے والے پودے لگا سکتا ہے۔ ویسے بھی گملے میں لگے پودوں کی سنچائی، دیکھ بھال اور جگہ بدلنا کھیت کی نسبت زیادہ سہل ہے۔ چاہیں تو آپ گملے کو ڈرائنگ روم میں لے جائیں، چاہیں برآمدے میں رکھ دیں۔ چاہیں تو لان میں ترتیب دے لیں یا گھر کے باہر دیوار کے ساتھ لگا دیں۔

بھارت کو تو بنا بنایا باغ اور کچھ تناور درخت مل گئے لیکن اور آنکھ بند ہوتے ہوتے کھیت چر گئیں۔ اس کے بعد بچے کھچے بیج مٹھی بھر بھر کے پھینکے جاتے رہے جو کھیت کے کچھ حصوں میں زیادہ گرگئے، کہیں تھوڑے سے گرے تو کہیں بالکل نہیں گرے اور ایک بے ہنگم فصل میں تبدیل ہوگئے۔

چنانچہ باغبانوں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ صرف ایک خاص مدت تک کار آمد ہائیبریڈ بیج استعمال کئے جائیں اور وہ بھی گملوں میں۔ وہ دن اور آج کا دن ۔ کبھی گملے چھوٹے بڑے ہوجاتے ہیں، کبھی ایک پودے کو دوسرے سے بدل دیا جاتا ہے اور کبھی سب بیج نئے آجاتے ہیں۔ایک سے ایک نئی کونپل، نیا پھول، بڑھیا پودا۔ کسی پودے کی خوبی یہ ہے کہ وہ مچھروں کو دور رکھتا ہے۔کوئی صرف خوشبو دیتا ہے۔کوئی بس دیکھنے میں اچھا لگتا ہے۔کوئی بطور جڑی بوٹی لگایا گیا ہے۔

کسی میں چھوٹے چھوٹے پھل بھی لگ جاتے ہیں۔کسی کے پتے دیکھ کر دل جھوم جاتا ہے۔کچھ کیکٹس بھی ہیں جنہیں دور سے سراہا جاتا ہے۔ان میں کچھ پودے موسمی ہیں تو کچھ بارہ ماہ ہرے بھرے رہتے ہیں۔

باغبان صرف باغبان نہیں ماہرِ نباتات بھی ہے۔گملاتی پودوں کے اختلاط و قلم سازی سے نئی اقسام تیار کرکے انہیں مختلف کمرشل نام بھی دیتا رہتا ہے۔ بہت سی اقسام کامیاب نہیں بھی ہوتیں لیکن جو کامیاب ہوتی ہیں وہ باغبان کی اگلی پچھلی لاگت پوری کرجاتی ہیں۔

جیسے بھٹو روز ، نواز چنبیلی، الطافی گیندا ، زرداری جڑی بوٹی ، فضلو سدا بہار ، اسفندیاری کیکٹس ، منور لیمن گراس اور عمران بیل وغیرہ وغیرہ وغیرہ۔