شمالی وزیرستان میں ڈرون حملہ، چار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈرون طیارے سے کیے گئے حملے میں گاڑی بھی مکمل تباہ ہوگئی

پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں امریکی جاسوس طیارے کے حملے میں چار شدت پسند ہلاک جبکہ دو زخمی ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں کی قومیت معلوم نہیں ہوسکی البتہ مقامی لوگوں کے مطابق ہلاک ہونے والے غیر مقامی معلوم ہورہے ہیں۔

میرانشاہ میں ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ اتوار کی دوپہر شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سے کوئی چالیس کلومیٹر دور مغرب کی جانب تحصل دتہ خیل کے علاقے ڈوگہ مداخیل میں ایک امریکی جاسوس طیارے نے ایک نان کسٹم پیڈگاڑی کو نشانہ بنایا۔

انہوں نے بتایا کہ اس حملے میں چار افراد ہلاک اور دو زخمی ہوئے ہیں۔ لیکن ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ کیا ہلاک ہونے والے مقامی شدت پسند ہیں یا اس میں کوئی غیر مُلکی بھی شامل ہیں۔

سرکاری اہلکار کے مطابق امریکی ڈرون طیارے سے گاڑی پر چار میزائل فائر کیے گئے جس کے نتیجے میں گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔انہوں نے کہا کہ جس علاقے میں گاڑی کو نشانہ بنایاگیا ہے یہ علاقہ ایک پہاڑی سلسلہ ہے اور یہاں آبادی بُہت کم ہے۔

مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جس گاڑی پر ڈرون حملہ ہوا ہے اس میں ہلاک ہونے والے افراد غیر مقامی معلوم ہوتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق نشانہ بننے والی گاڑی ڈوگہ مداخیل سے دتہ خیل بازار کی جانب آرہی تھی کہ راستے میں امریکی جاسوس طیارے نے اس پر حملہ کیا۔

انہوں کے بقول دتہ خیل اور مضافاتی علاقوں میں دن رات تین سے پانچ تک امریکی جاسوس طیارے فضاء میں موجود رہتے ہیں۔

اسی بارے میں