ایم کیو ایم کی صدر زرداری کے حق میں ریلی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption وہ صدر پاکستان کا ہر قیمت پر جمہوریت کی خاطر ساتھ دیں گے اور انہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے: الطاف حسین

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی جانب سے جمعے کو لاہور میں ایک جلسے کے دوران صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے کے خلاف ایک ریلی نکالی۔

اتوار کو استحکام ِ جمہوریت کے نام سے ریلی میں ایم کیو ایم کے علاوہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ قاف کی قیادت کے کچھ رہنما بھی شریک تھے۔

کراچی کے تبت سینٹر سے نمائش چورنگی تک نکالی گئی اس ریلی میں ایم کیو ایم کے کارکنوں کی بڑی تعداد شریک تھی اور اسے سیاسی طور پر ایک متاثر کُن ریلی کہہ جا سکتا ہے۔

نامہ نگار حسن کاظمی کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے عہدے داران اور کارکنوں کے علاوہ پیپلزپارٹی کی صوبائی قیادت جس میں این ڈی خان، شرمیلا فاروقی، تاج حیدر اور پیر مظہرالحق شریک تھے جبکہ بہت ہی محدود تعداد میں پیپلزپارٹی کے کارکنان بھی نظر آئے، اس کے علاوہ مسلم لیگ قاف کی صوبائی قیادت بھی شریک تھی جس میں حلیم عادل شیخ بھی شامل تھے۔

پیپلزپارٹی کی جانب سے سندھ کے صوبائی وزیر پیر مظہر الحق نے ریلی سے خطاب کیا اور صدرِ پاکستان کی حمایت میں ریلی کے انعقاد پر ایم کیو ایم کی قیادت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلم لیگ ن کی سیاست سے جمہوریت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ جمہوریت کی بقاء کےلیے وہ اور ان کی جماعت صدر پاکستان کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے مسلم لیگ نون کی قیادت پرکڑی نکتہ چینی کی اورکہا کہ انہیں انتخابات کا انتظار کرنا چاہیے اور اگر انتخابات میں عوام مسلم لیگ نون کو منتخب کرتی ہے تو پھر انہیں حق ہے کہ وہ حکومت کریں۔

انہوں نے کہا کہ رائے ونڈ کے محل میں برطانیہ کی ملکہ کے محل کی طرح بگھیاں چلتی ہیں اور وہ لوگ شہزادوں کی طرح رہتے ہیں اور ایسے لوگوں کے منہ سے حبیب جالب جیسے انقلابی شاعر کی نظمیں اچھی نہیں لگتیں۔

اپنی تقریر میں ایم کیو ایم کے قائد نے کہا کہ وہ صدر پاکستان کا ہر قیمت پر جمہوریت کی خاطر ساتھ دیں گے اور انہیں اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری نے گیارہ سال جیل کاٹی ہے اور پامردی سے مشکلات کا مقابلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ شریف برادران کو الٹا لٹکانے کی ضرورت نہیں ہے یہ تو جیل میں مچھر سے ڈر جاتے ہیں اور معافیاں مانگ کر جدہ چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میاں شہباز شریف پہلے عائشہ احد کو انصاف دلائیں پھر قوم کو انصاف دلانے کی بات کریں۔

اپنی تقریر کے دوران انہوں نے حبیب جالب کے کچھ اشعار میں تبدیلی کرکے انھیں نون لیگ کی قیادت کے خلاف طنز کے طور پر بھی پڑھے۔

اسی بارے میں