’بیگم نصرت بھٹو صرف روتی رہتی تھیں‘

علن ناریجو تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد زمینوں کا انتظام بیگم بھٹو نے سنبھالا: علن ناریجو

’بینظیر بھٹو اور میر مرتضیٰ بھٹو کے درمیاں جب اختلافات پیدا ہوئے تو میں اور منشی محمد حسن بھٹو المرتضیٰ ہاؤس لاڑکانہ گئے اور بیگم نصرت بھٹو صاحبہ سے کہا کہ وہ دونوں بچوں میں صلح کرادیں ۔۔۔ وہ خاموش رہیں اور روتی رہیں، اپنے رومال سے آنسو پونچھے اور کچھ کہے بنا چلی گئیں ۔۔۔ میں نے انہیں ایسا دکھی پہلے کبھی نہیں دیکھا۔‘

یہ بات نو ڈیرو میں بینظیر بھٹو کی رہائش گاہ کے لان میں بیٹھے بھٹو خاندان کی زمینوں کی رکھوالی کرنے والے کمدار علن ناریجو نے بیگم بھٹو کے سوئم کے اگلے روز سنائی۔

بیاسی سالہ علن ناریجو بیگم نصرت بھٹو کی یادیں سناتے ہوئے بولے ’ایک مرتبہ ذوالفقار علی بھٹو صاحب بیگم صاحبہ کے ہمراہ بچوں کے ساتھ دو گاڑیوں میں کھیت گھومنے آئے تو کچھ دیر بعد بیگم صاحبہ غائب ہوگئیں۔ بھٹو صاحب بڑے پریشان ہوئے اور مجھ سے پوچھا بیگم کہاں گئیں ۔۔۔ میں نے کہا پتہ نہیں یہیں کہیں ہوں گی۔‘

بھٹو صاحب بولے جاؤ انہیں ڈھونڈ کر لاؤ۔ کچھ دیر بعد پتہ چلا کہ بھٹو صاحب کے ایک قریبی شخص یار محمد بھٹو بیگم صاحبہ کو گاڑی میں بٹھا کر گھر چھوڑنے چلے گئے۔ بھٹو صاحب زمینداری میں کافی دلچسپی لیتے تھے اور خود آکر نگرانی بھی کرتے تھے۔

بھٹو خاندان کی دو ہزار ایکڑ زمین ہے، جس میں گنا، چاول، مٹر اور گندم کاشت ہوتی ہے۔ لیکن اب زمین کا بٹوارا ہوچکا ہے۔ غنویٰ بھٹو کے پاس ایک ہزار ایکڑ زمین ہے جبکہ اِتنی ہی بینظیر صاحبہ کے بچوں کی ہے۔

بھٹو صاحب کی پھانسی کے بعد زمینوں کا انتظام بیگم بھٹو نے سنبھالا۔ ایک دن بینظیر صاحبہ کو لے آئیں اور کہا کہ انہیں کاشت سکھائیں ۔۔۔ ان دنوں گنے کی کاشت ہو رہی تھی اور بینظیر صاحبہ سورج طلوع ہونے سے غروب ہونے تک کھیتوں میں کام کرتی تھیں۔

بینظیر صاحبہ کا ناشتہ بھی کھیتوں میں آتا تھا اور انہیں ناشتے میں جوار کی روٹی، مکھن اور شہد بہت پسند تھے۔ گنا کاشت کرنے کا مقابلہ ہوتا تھا اور جو پارٹی جیت جاتی انہیں بینظیر صاحبہ انعام بھی دیتی تھیں۔ جب پندرہ سولہ دن گزر گئے تو بیگم صاحبہ آئیں ۔۔۔ ہم نوکروں نے بینظیر صاحبہ کی بڑی تعریفیں کیں ۔۔۔ لیکن بیگم صاحبہ ناراض ہوئیں۔

بیگم صاحبہ نے کہا کہ مجھے پتہ ہے تم مسکے لگا رہے ہو۔ لیکن پھر مسکراتے ہوئے بولیں دیکھو میری بیٹی کا رنگ کیسے اڑ گیا ہے ۔۔۔ سانولی ہوگئی ہیں ۔۔۔ میں نے دو ہزار روپے ان کی دوائی پر خرچ کیے ہیں۔ پھر بیگم صاحبہ بینظیر کے ہمراہ چلی گئیں اور بعد میں زمینداری سنبھالنے کا کام بینظیر صاحبہ کرتی تھیں۔

ایک دفعہ حج کی عید پر بیگم صاحبہ تمام نوکروں کے لیے کپڑے لائیں۔ دو نوکروں کے لیے جوڑے کم پڑ گئے تو انہوں نے کہا کہ بس جس کو مل گئے سو مل گئے۔ ہم نے ان دونوں نوکروں کو چھیڑا کہ تم کو بیگم صاحبہ نوکر نہیں سمجھتیں۔ ان دونوں نے بیگم صاحبہ کو شکایت لگادی تو اگلے روز ہم سے بھی اچھے کپڑے ان کو مل گئے۔

میں دو بار دوبئی بھی گیا لیکن وہاں دیکھا کہ بیگم صاحبہ کا حال اچھا نہیں تھا۔ شروع میں تو وہ صرف روتی رہتی تھیں لیکن بعد میں وہ صدمے سے بے حال تھیں۔ میں واپس آگیا اور میرا بھائی فوت ہوگیا۔ بینظیر صاحبہ اپنی شہادت سے ایک ماہ قبل تعزیت کے لیے میرے گھر آئیں اور دو گھنٹے بیٹھی رہیں۔

بینظیر صاحبہ نے میرے بیٹوں اور بیٹیوں سے بات کی اور کہا کہ اب کی بار سب کو نوکریاں دوں گی۔ لیکن بی بی شہید ہوگئیں اور موجودہ حکومت میں کوئی نوکری نہیں ملی۔

میرے آٹھ بیٹے اور پانچ بیٹیاں ہیں ۔۔۔ میرے تین بیٹوں کو بینظیر صاحبہ نے ملازمت دی جس میں ایک صوبیدار تھا۔ میرے صوبیدار بیٹے نے ایک مقابلے میں ڈاکو مار دیا لیکن بعد میں ان کے بدلے میں میرے بیٹے کو قتل کیا گیا۔

آج کل زمینوں کا حساب کتاب ادی فریال تالپور کے منیجر ریاض پھلپوتہ کرتے ہیں ۔۔۔ ہم اناج وغیرہ گودام میں پہنچاتے ہیں ۔۔۔ بس اپنا کام ختم۔

اسی بارے میں