متحدہ، پی پی بھائی چارہ

ایم کیو ایم کا جلسہ تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پیپلز پارٹی کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حالات معمول کے مطابق رہے اور یہ اتحاد برقرار رہتا ہے تو شاید صدرِ پاکستان کے آئندہ انتخاب کے لیے آصف علی زرداری کی نامزدگی کی تجویز ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ ہی پیش کرے

پاکستان کے صدر آصف علی زرداری کے بارے میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے کلمات کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ ’ایم کیو ایم‘ کی جانب سے کراچی میں احتجاجی جلسہ کرنے پر سیاسی حلقوں میں قدرِ حیرانی ظاہر کی جا رہی ہے۔

ایک اہم سوال یہ زِیر بحث ہے کہ کل تک قومی مصالحتی آرڈیننس ’این آر او‘ کا معاملہ ہو یا کشمیر میں مہاجرین کی دو مخصوص نشستوں کے انتخاب کی بات، بجلی کے نرخ بڑھانے کا ایشو ہو یا بلدیاتی نظام میں تبدیلی، متحدہ قومی موومنٹ حکومت سے علیحدگی اور صدر کے خلاف تند و تیز بیانات سے گریز نہیں کرتی تھی۔

لیکن اب ایسا کیا ہوگیا کہ صدر کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے سرکردہ رہنماء کے لاہور میں جلسے سے خطاب کے دوران صدر آصف علی زرداری کو ’مداری‘ کہنے، کرپشن میں ملوث قرار دینے اور انہیں الٹا لٹکانے کی دھمکیاں دینے پر پیپلز پارٹی کے بجائے متحدہ ان کے دفاع میں آگے آئی اور ’تحفظ جمہوریت جلوس‘ نکالا۔

حالانکہ متحدہ قومی موومنٹ نے جس جگہ صدر کے حق میں جلوس اور جلسہ کیا یعنی تبت سینٹر پر، وہاں بارہ مئی سنہ دو ہزار سات کے پرتشدد واقعات کے بعد جب متحدہ نے اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنےکی خاطر جلسہ کیا تھا تو اس میں اتنے لوگ شریک نہیں ہوئے تھے، جتنے کہ اب کی بار شریک ہوئے۔

صدرِ مملکت کے حق میں ایم کیو ایم کے جلسے کے بارے میں پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ وہ بیگم نصرت بھٹو کی وفات کی وجہ سے سوگ منا رہے ہیں اس لیے ان کی سیاسی سرگرمیاں معطل ہیں اور ان کی اتحادی جماعت نے احتجاج کیا۔ جبکہ متحدہ قومی موومنٹ کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے اتحادی ہیں اور انہیں جمہوری نظام کے خلاف مسلم لیگ (ن) کی سازشوں کا احساس ہوا اس لیے انہوں نے نظام کو بچانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

ماضی میں پیپلز پارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) یا پھر پرویز مشرف، ان کے ساتھ ایم کیو ایم کے سیاسی تعاون کی تاریخ کا اگر جائزہ لیں تو یہ بات صاف معلوم ہوتی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ اپنی شرائط کی پر ان کے ساتھ تعاون کیا ہے۔ لیکن اب کی بار بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ ایم کیو ایم پیپلز پارٹی کی کوئی ‘ڈکٹیشن‘ یا ’فرمائش‘ ٹالنا نہیں چاہتی۔

اس بارے میں بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک تو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کا سیاسی ’ہوم گراؤنڈ‘ سندھ ہے اور دونوں کا ایک دوسرے سے سیاسی مفاد براہ راست جڑا ہوا ہے۔ دوسرا یہ کہ موجودہ حالات میں مذہبی جماعتوں سے لے کر مسلم لیگ (ن) تک اور عوامی نیشنل پارٹی سے لے کر عبدالستار ایدھی تک اور سندھ کے قومپرستوں سے لے کر ایم کیو ایم حقیقی تک سب سے ایم کیو ایم کی مخالفت چل رہی ہے اور ایسے میں اگر حکومت سے ان کا جھگڑا ہوتا ہے تو ایم کیو ایم کو بہت کچھ کھونا پڑ سکتا ہے۔

لیکن کچھ سیاسی مبصر اس کی ایک اہم وجہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ کراچی میں بدامنی، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم کے معاملات کے مقدمے کی سماعت کے بعد سپریم کورٹ نے جو حکم جاری کیا ہے اس کے تحت کراچی میں از سر نو حلقہ بندیاں کرنے، کراچی کی انتظامی حیثیت، بلدیاتی نظام اور دیگر قوانین میں ترامیم اور آفاق احمد کی رہائی سمیت بہت سارے کارڈ حکومت کے پاس ہیں۔

اگر حکومت سے ایم کیو ایم علیحدہ ہوتی ہے تو ایک طرف شاید وہ سیاسی تنہائی کا شکار ہو اور دوسرا یہ کہ ان کے مندرجہ بالا معاملات کے تناظر میں سیاسی مفادات کو دھچکا لگے۔ لیکن اگر وہ حکومت کے ساتھ رہتے ہیں تو وہ بارگین کی صورت میں اپنے مفادات کو نقصان کم سے کم پہنچنے دیں گے۔

ظاہر ہے کہ موجودہ سیاسی حالات کی وجہ سے حکومت کو ایم کیو ایم کا ساتھ ہونے سے فائدہ یہ ہوگا کہ کراچی میں حالات قدرِ بہتر رہیں گے، آئندہ برس مارچ میں سینیٹ کے الیکشن آسانی سے ہوجائیں گے، جس کی نتیجے میں پیپلز پارٹی پارلیمان کے ایوان بالا کی اکثریتی جماعت بن جائے گی، آئندہ بجٹ بھی آرام سے منظور کرالے گی اور آئندہ انتخابات اور اس کے بعد کے سیاسی منظر میں بھی دونوں کے لیے فائدہ ہوگا۔

پیپلز پارٹی کے کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر حالات معمول کے مطابق رہے اور یہ اتحاد برقرار رہتا ہے تو شاید صدرِ پاکستان کے آئندہ انتخاب کے لیے آصف علی زرداری کی نامزدگی کی تجویز ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ ہی پیش کرے۔ ان کی خواہش اپنی جگہ لیکن پاکستان کی لمحے لمحے بدلتی سیاست میں کل کیا ہوتا ہے یہ تو کوئی بھی وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔

اسی بارے میں