’رینٹل پاور معاہدوں میں بظاہر جلد بازی کی گئی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

پاکستان کی سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بادی النظر میں کرائے کے بجلی گھروں کے ساتھ ہونے والے معاہدے جلد بازی میں کیے گئے ہیں اور اس میں ملکی مفاد کو مدنظر نہیں رکھا گیا۔

عدالت نے حکومت سے آئی پی پیز اور کرائے کے بجلی گھروں سے پیدا ہونے والی بجلی کی قیمتوں کے تقابلی جائزے سے متعلق رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

رینٹل پاور: ابتداء سے ہی تنقید کی زد میں

پیر کو کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بغیر کرائے کے بجلی گھروں کے مالکان کو چھ ارب روپے سے زائد کی رقم ایڈوانس میں دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ کرائے کے بجلی گھروں سے معاہدے میں جلد بازی کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدے کرتے ہوئے ملک کے مفاد کو مقدم نہیں رکھا گیا ہے۔

پانی و بجلی کی وزارت کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے عدالت کو بتایا کہ یہ معاہدے آئندہ پندرہ برس کے لیے پاکستان میں بجلی کی ضروریات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کیے گئے تھے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب حکومت نے نجی پاور کمپنیوں سے معاہدے کیے تھے اُس وقت ملک کی ریٹنگ بی پلس تھی جبکہ معاہدے ہونے کے بعد ملک کی ریٹنگ منفی سی میں چلی گئی۔

پانی وبجلی کے سابق وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف بھی پیر کو عدالت میں پیش ہوئے۔ اُنہوں نے کہا کہ اُن پر ان معاہدوں کے حوالے سے بہت سے الزامات لگائے گئے جن کا جواب دینا چاہتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے دفاع میں جو کچھ کہنا چاہیں یہ اُن کا حق ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ قاف کے رکن قومی اسمبلی فیصل صالح حیات نے وفاقی کابینہ میں شامل ہونے کے پہلے کرائے کے بجلی گھروں سے متعلق ایک درخواست سپریم کورٹ میں دائر کی تھی۔ اس درخواست میں کہا گیا تھا کہ سابق وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں مبینہ طور پر کروڑوں ڈالر کی رشوت لی ہے۔

فیصل صالح حیات نے ایک نجی ٹی وی پر انٹرویو دیتے ہوئے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ اس رقم کا بڑا حصہ صدر آصف علی زرداری کے اکاؤنٹ میں بھی منتقل ہوا ہے۔

فیصل صالح حیات نے وفاقی وزیر برائے ہاوسنگ اینڈ ورکس بننے کے بعد سپریم کورٹ میں اپنی درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کی استدعا کی تھی جو مسترد کر دی گئی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پیر کو سماعت کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں شروع ہوئے تھے اور فیصل صالح حیات اُس دور میں وزیر بھی رہے ہیں۔

راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ اب ان کی باری ہے اور وہ تمام حقائق کو عدالت اور عوام کے سامنے پیش کریں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر فیصل صالح حیات نے موجودہ حکومت پر بدعنوانی کا الزام عائد کیا ہے تو پھر وہ اس حکومت میں شامل کیوں ہوئے ہیں۔

عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ تمام سیاست دان ملک سے محبت کے دعویدار تو ضرور ہیں لیکن عملی طور پر اس کا مظاہرہ بڑا کم دیکھنے کو ملتا ہے۔

خیال رہے کہ مئی دو ہزار آٹھ میں جب وفاق میں پیپلز پارٹی کے مخلوط حکومت کو بنے چند ماہ ہی ہوئے تھے، پانی و بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویز اشرف نے ایک پالیسی بیان میں اعلان کیا تھا کہ حکومت بائیس سو میگاواٹ پیداوار دینے والے انیس بجلی گھر کرائے پر حاصل کر رہی ہے جو اسی سال کے آخر میں پیداوار شروع کر دیں گے۔

تاہم اقتصادی رابطہ کمیٹی کی جانب سے اعتراضات کے بعد کرائے پر حاصل کیے جانے والے بجلی گھروں کی تعداد انیس سے کم کر کے آٹھ کر دی گئی تھی۔

اسی بارے میں