بنوں: تین شدت پسندوں کی لاشیں برآمد

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والوں میں دو طالبان کمانڈر بھی بتائےجاتے ہیں

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی ضلع بنوں میں حکام کا کہنا ہے کہ تین شدت پسندوں کی لاشیں ملی ہیں جنہیں فائرنگ کر کے ہلاک کیا گیا ہے۔

مرنے والوں میں دو طالبان کمانڈر بتائے جاتے ہیں جن کے بارے میں دعویٰ کیا جارہا ہے کہ انھیں کچھ عرصہ قبل گرفتار کیا گیا تھا۔

بنوں پولیس کے ایک اہلکار حبیب اللہ نے پشاور میں بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا ہے کہ تینوں جنگجوؤں کی لاشیں پیر کو بنوں لنک روڈ پر جالندھر کے علاقے میں سڑک کے کنارے سے برآمد کی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے جن میں مولانا حسن احمد اور سراج دین کا تعلق لکی مروت جبکہ نور رحمان کا تعلق شمالی وزیرستان کے علاقے سیرکوٹ سے بتایا جاتا ہے۔ ان کے مطابق پوسٹ مارٹم کے بعد میتوں کو ان کے ورثاء کے حوالے کردیا گیا ہے۔

پولیس اہلکار کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق مقتولین کو پیٹ اور کمر میں گولیاں ماری گئی ہیں۔

بعض مقامی لوگوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں دو افراد مولانا حسین احمد اور سراج الدین کو اس سال اپریل کے مہینے میں لکی مروت سے گرفتار کیا گیا تھا تاہم سرکاری طورپر ان کی گرفتاری کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

انہوں نے کہا کہ یہ دونوں افراد لکی مروت میں طالبان کے اہم کمانڈر بتائے جاتے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ مولانا حسین احمد کچھ عرصہ قبل کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کو چھوڑ کر افغان طالبان کے ایک گروپ میں شامل ہوگئے تھے۔

مقامی لوگوں نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والے دو افراد نور رحمان اور سراج الدین پر الزام لگایا جارہا تھا کہ وہ شاہ حسن خیل لکی مروت میں یکم جنوری دو ہزار دس کو ہونے والے خودکش حملے میں ملوث تھے جس میں سو سے زائد عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔

ادھر دوسری طرف صوبہ خیر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ایک ڈائریکٹر کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا ہے۔

پشاور پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی شام کو کوہاٹ روڈ پر اس وقت پیش آیا جب ایک مسلح شخص نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر اکرم اللہ پر کلاشنکوف سے اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے وہ موقع ہی پر ہلاک ہوگئے۔ تاہم اس واقعہ کی وجہ فوری طورپر معلوم نہیں ہوسکی۔

اسی بارے میں