’زبردستی کی شادی ایک اہم مسئلہ ہے‘

Image caption ہر ماہ بیس سے بائیس ایسے معاملے سامنے آتے ہیں جس میں ہندو لڑکیوں کو مسلمان کیا جاتا ہے: کراچی ہندو پنچائیت

’میں بہت مشکلات کا سامنا کر رہی ہوں اور دل کرتا ہے کہ کھڑکی سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دوں۔‘

یہ الفاظ باون سالہ دھن بائی کے ہیں جو کراچی کے لیاری علاقے میں ایک کمرے جتنے فلیٹ میں اپنی دو بیٹیوں اور اپنے خاوند کے ساتھ رہتی ہیں۔

دھن بائی پاکستان کے ان سینکڑوں ہندو خواتین میں سے ہیں جن کی بیٹیوں کو مسلمان کر کے ان کی زبردستی شادی کروا دی جاتی ہے۔

تقریباً تین سال قبل دھن بائی کی اکیس سالہ بیٹی بانو اچانک گھر سے غائب ہوگئی تھی اور پھر خاندان والوں کو معلوم ہوا کہ وہ مسلمان ہو چکی ہے اور ان کی شادی بھی ہو چکی ہے۔

بانو نے میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد ایک غیر سرکاری تنظیم میں کام کرنا شروع کر دیا تھا اور گھر کا خرچہ چلانے میں اپنے والد کی مدد کرتی تھی۔

بانو کی والدہ دھن بائی نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا میری بیٹی کو کچھ افراد لےگئے اور ہم اس مقدمے میں اتنے پھنسے ہیں کہ اب گھر کو چلانا بھی مشکل ہوگیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی زندگی بہت مشکل میں گزر رہی ہے اور ان کا دل چاہتا ہے کہ وہ دریا میں ڈوب جائے یا پھر کھڑکی سے چھلانگ لگا کر اپنی جان دے دے۔

کراچی ہندو پنچائت کے مطابق ہر ماہ بیس سے بائیس ایسے معاملے سامنے آتے ہیں جس میں ہندو لڑکیوں کو مسلمان کیا جاتا ہے اور ان کی زبردستی شادی کروا دی جاتی ہے۔

دھن بائی گزشتہ تین سالوں سے اپنی بیٹی کی راہ دیکھ رہی ہیں اور عدالتوں کے چکر کاٹ رہی ہیں لیکن تین سالوں کے دوران وہ اپنی بیٹی کو ایک بار نہ تو دیکھ سکیں ہیں اور نہ ہی فون پر کوئی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا’بانو نے ایک بار مجھ سے کہا کہ امی میں نوکری کرنا چاہتی ہوں تو میں نے ہاں کہہ دی۔ وہ اپنا بوجھ خود اٹھانے لگی۔ وہ تو غریبوں کی مدد کرنے جاتی تھی، کیا پتا تھا کہ وہ کبھی واپس بھی نہیں آئے گی۔‘

دھن بائی نے کہا’میری بیٹی سے بات چیت بھی نہیں ہوتی ہے، کہاں ہے اور کدھر گئی؟ ان کو مار دیا گیا، ہمیں کچھ پتا نہیں ہے۔

بیٹی کی یاد نے دھن بائی کو بیمار کر دیا ہے اور وہ اپنی دو بیٹیوں لکشمی اور شردھا کی بھی فکر ہے کہ کہیں وہ بھی گھر سے نہ غائب ہو جائیں۔ ان کے شوہر بدھارام لعل جی کی دل بھی اب کام میں نہیں لگتا ہے۔

بدھارام لعل جی نے بی بی سی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ہم عدالتوں کے چکر کاٹ کر تھک گئے ہیں اور ہم نے عدالت کو کہا کہ ایک بار ہماری بیٹی کو سامنے لاؤ، اگر وہ خود کہے کہ بابا میں اس مذہب میں خوش ہوں تو میں ہم خاموش ہو جائیں گے۔

بدھارام لعل جی ایک مقامی کمپنی میں ڈرائیور ہیں اور ان کو بہت کم تنخواہ ملتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔

انہوں نے کہا’ہمیں کچھ پتا نہیں ہے کہ کب ہمارا مقدمہ ختم ہو جائے اور کب اپنی بیٹی سے ملاقات ہوگی۔ ہم بہت تنگ ہو چکے ہیں اور کہاں جائیں؟ مقدمے کا سامنا کریں یا پھر اپنے بچوں کا پیٹ پالیں۔‘

کراچی ہندو پنچائت کے صدر امر ناتھ نے بتایا کہ زبردستی شادی اور مذہب کی تبدیلی پاکستان میں ہندو برادری کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق ہندو برادری کی کم عمر لڑکیوں کو گھروں سے نکالا جاتا ہے اور انہیں ورغلایا جاتا ہے اور اس میں نہ حکومت کوئی مدد کرتی ہے اور نہ ہی پولیس کوئی فریاد سنتی ہے۔

انہوں نے کہا آجکل اس قسم کے معاملات میں مذہبی جماعتوں کے افراد ملوث ہیں اور مدارس کے شاگرد میں بھی ہندؤں کی لڑکیوں کو مسلمان کرکے شادی کروا رہے ہیں۔ ملک کے بڑے مدرسے مسلمان ہونے کا سرٹیفیکیٹ جاری کر دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہندو لڑکیوں کو گھروں نے نکالنا اور انہیں مسلمان کرنا ایک منصوبے کے تحت ہو رہا ہے جس پر حکومت کوئی توجہ نہیں دے رہی ہے۔

کراچی کے ایک دینی مدرسے جامعہ بنوریہ کے سربراہ مفتی نعیم نے ہندو لڑکیوں کو مسلمان کرنے کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے اور کہا کہ کسی بھی مدرسے کے شاگرد اور مذہبی جماعتوں کے افراد اس معاملے میں ملوث نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران ان کے پاس دو سو سے زائد لڑکے اور لڑکیاں مسلمان ہونے کےلیے پہنچی ہیں اور ان کو کسی نے زبردستی مسلمان نہیں کیا ہے۔

مفتی نعیم نے بتایا کہ کوئی ایسی مثال نہیں ملتی کہ کسی ہندو لڑکی نے یہ کہا ہو کہ ان کو زبردستی مسلمان کیا گیا ہے بلکہ مسلمان ہونے والی لڑکیوں کے والدین مدارس پر الزامات لگاتے رہتے ہیں۔

پاکستان ہندؤ کونسل کے مطابق پاکستان میں ہندؤں کی آبادی تقریباً ستر لاکھ ہے جن کی بڑی تعداد سندھ میں آباد ہے۔