پاکستان کا آئی ایم ایف سے معاہدہ ختم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان نے آئی ایم ایف سے ساڑھے سات ارب ڈالر قرض کے حصول کا معاہدہ کیا تھا جو بعد میں بڑھا کر ساڑھے گیارہ ارب ڈالر کر دیا گیا تھا

امریکہ کی جانب سے مداخلت سے انکار کے بعد پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے درمیان قرض کا معاہدہ، معاشی اصلاحات پر اختلافات کی نذر ہو گیا ہے۔

پاکستان نے آئی ایم ایف سے ساڑھے گیارہ ارب ڈالر کا قرض حاصل کیا تھا جس کی ساڑھے تین ارب ڈالر کی آخری قسط مالیاتی ادارے نے اپنی شرائط پوری نہ ہونے پر روک لی تھی۔

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان واشنگٹن میں گزشتہ چند روز کے دوران ہونے والے مذاکرات سے باخبر ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی جانب سے یہ رقم جاری کرنے سے انکار کے بعد امریکی حکام سے مداخلت کی درخواست کی جس کے باوجود آئی ایم ایف نے پاکستان کو مزید مہلت یا یہ رقم دینے سے انکار کر دیا۔

پاکستان نے نومبر سنہ دو ہزار آٹھ میں آئی ایم ایف سے ساڑھے سات ارب ڈالر قرض کے حصول کا معاہدہ کیا تھا جو بعد میں بڑھا کر ساڑھے گیارہ ارب ڈالر کر دیا گیا تھا۔

آئی ایم ایف نے یہ مشروط قرض دو سال کی مدت میں مختلف اقساط کی صورت میں پاکستان کو دینا تھا۔ اس دوران پاکستان کو آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کر کے معاشی اصلاحات کے ذریعے اپنی کارکردگی دکھانی تھی۔

پاکستان میں گزشہ سال آنے والے تباہ کن سیلاب کے باعث آئی ایم ایف نے اس قرض اور شرائط پر عملدرآمد کی مدت میں پہلے نو ماہ اور پھر دو ماہ کی توسیع بھی کی تھی۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے ایک برطانوی اخبار کو انٹریو میں اعلان کیا ہے کہ سخت شرائط کے باعث پاکستان نے آئی ایم ایف سے مزید قرض نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے پاکستان کی وزارتِ خزانہ کے حکام آئی ایم ایف کے ساتھ ساڑھے تین ارب ڈالر کی قسط کے حصول کے لیے مذاکرات میں مصروف تھے۔

پاکستان کی وزارتِ خزانہ کے ایک ترجمان نے بی بی سی کے استفسار پر بتایا کہ وزیرِخزانہ کی جانب سے اس انٹرویو کی تا حال تردید نہیں کی گئی جس کا مطلب یہی لیا جانا چاہیے کہ وہ اس کے مندرجات سے متفق ہیں۔

وزیرِخزانہ عبدالحفیظ شیخ نے اپنے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کی جانب سے سخت شرائط کو مسترد کر دیا ہے اور اب ان کا ملک اپنے تیار کردہ اصلاحاتی پروگرام پر عمل کرے گا۔

دوسری جانب عالمی مالیاتی ادارے کے ترجمان نے اس بیان پر تبصرے سے انکار کیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ قرض کا معاہدہ تیس ستمبر کو ختم ہو گیا تھا۔

واشنگٹن اور دبئی میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان گزشتہ چند ماہ کے دوران ہونے والے مذاکرات میں شریک ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے وفود کے درمیان آخری چند ملاقاتیں شدید تناؤ کے ماحول میں ہوئی تھیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کے افسران عبدالحفیظ شیخ سے معاشی اصلاحات کے منصوبے پر عمل کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے تھے جبکہ وزیرِخزانہ انہیں پاکستان کے سیاسی حالات، دہشت گردی اور عالمی حالات کے تناظر میں پاکستان کے مسائل سے آگاہ کرتے رہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام نے ان مذاکرات میں اپنی مدد کے لیے امریکی حکام سے بھی رابطے کیے اور ان سے آئی ایم ایف کے پروگرام میں توسیع کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی لیکن یہ درخواست بھی نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکی۔

ان حالات میں پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف کے پروگرام کو مسترد کرنے کا اعلان، ذرائع کے مطابق بلاِ جواز ہے کیونکہ یہ پروگرام در اصل تیس ستمبر کو، یعنی ایک ماہ قبل ہی ختم ہو چکا ہے جسے دوبارہ زندہ کرنے کی پاکستانی درخواست بھی مسترد کی جا چکی ہے۔

یاد رہے کہ آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے وقت پاکستان نے اس مالیاتی ادارے کے ساتھ طے کیا تھا کہ ملک میں ٹیکس کے شعبے میں جامع اصلاحات لائی جائیں گی۔

اس کے علاوہ توانائی کے شعبے میں بحرانی کیفیت کے خاتمے کے لیے بھی حکومت نے اس شعبے میں بعض انقلابی اقدامات کا وعدہ کیا تھا لیکن آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان ان وعدوں پر عمل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اسی بارے میں