’باہمی مفاد ہوگا تبھی بات آگے بڑھے گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption بھارت نے پاکستان کو ایم ایف این کا درجہ انیس سو چھیانوے میں دیا تھا

پاکستان کی جانب سے بھارت کو تجارتی زبان میں موسٹ فیورڈ نیشن یا سب سے پسندیدہ ملک قرار دینے کا معاملہ سولہ برس سے التواء کا شکار تھا۔

یہ درجہ بھارت کو دیا جانا چاہیے یا نہیں اس بابت لاہور کے ایک نوجوان تاجر نے اپنی ہی دلچسپ وضاحت پیش کی ان کا کہنا تھا کہ یہ باضابطہ شادی کے پہلے قدم کے طور پر بھارت کو ’گرل فرینڈ’ کا درجہ دینا ہے۔

ان کی بات کوئی اتنی غلط بھی دکھائی نہیں دیتی۔ وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے گزشتہ دنوں پارلیمان میں اس معاہدے کی توثیق کے اشارے پہلے ہی دے دیے تھے لیکن آج وفاقی کابینہ نے اس کی باضابطہ منظوری دے کر بھارت کو بقول اس نوجوان کے ’گرل فرینڈ’ قرار دے دیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اس کا کوئی فائدہ ہوگا یا یہ محض ایک بین الاقوامی ضرورت تھی جو پاکستان نے پوری کر دی ہے؟

بھارت نے پاکستان کو ایم ایف این کا درجہ انیس سو چھیانوے میں دیا تھا لیکن پاکستانی اسٹیبلشمنٹ دو بڑے معاملات یعنی کشمیر اور مقامی صعنتوں کے تحفظ کو وجوہات بتا کر اس سے کنی کتراتی رہی ہے۔

اس کے باوجود تقریباً دو ہزار اشیاء کی ایک ایسی حکومتی منظور شدہ ’پازیٹو’ فہرست تھی کو باضابطہ طور پر بھارت سے درآمد کیا جا سکتا تھا۔ اس فہرست میں انیس سو چھیانوے میں محض چند سو اشیاء شامل تھیں۔

اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ برس پاکستان نے بھارت کو دو سو ستاون ملین جبکہ بھارت نے پاکستان کو ایک ہزار پانچ سو ساٹھ ملین ڈالر کی اشیاء بھیجیں اور بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیے جانے کے بعد بھی اس توازن میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نظر نہیں آ رہا ہے۔

عالمی سطح پر پاکستان چونکہ ڈبلیو ٹی او کا رکن ہے لہذا اس معاہدے کے تحت ممالک اس بات کے پابند ہیں کہ ان کے درمیان تجارت کو سہل بنایا جائے اور ٹیکس اور ڈیوٹیاں نہ صرف کم کی جائیں بلکہ تمام ممالک کے لیے برابر رکھی جائیں۔ تاہم اکثر ممالک ایم ایف این کا درجہ دینے کے باوجود اپنی مقامی صعنتوں کو بچانے کی خاطر ٹیکسوں میں تو کمی کر دیتے ہیں لیکن ایسے ’نان ٹیرف بیرئر‘ کھڑے کر دیتے ہیں کہ تاجروں کو پھر بھی مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔

بھارت نے پاکستان کو درجہ دینے کے بعد بھی یہی کچھ کیا۔ سکیورٹی، دیگر کلیرنسز اور این او سی کی ایسی لائن لگا دی کہ پاکستان برآمدکندگان کو ایم ایف این درجے کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ پاکستان کے بارے میں بھی یہی کہا جاسکتا ہے کہ درجے کے باوجود اپنی صنعت کو بچانے کی خاطر وہ نان ٹیرف بیرئر یقینا متعارف کرے گا۔

پاکستان میں جن صعنتوں پر اس درجے کے دینے کا منفی اثر ہو سکتا ہے ان میں ادویات اور آٹوموبائل کی صنعتیں سرفہرست ہیں اور اس کے علاوہ کوکنگ آئل، صابن، چینی، چمڑے کی مصنوعات بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔

خیال ہے کہ اپنی ان صنعتوں کو بچانے کی خاطر پاکستان بھی نان ٹیرف بیریر عائد ضرور کرے گا۔

ایک صنعت کار کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات تبھی آگے بڑھ پائے گی اور اگر یہ دونوں کے مفاد میں ہوگا۔ ’ایک کو فائدہ اور دوسرے کو نقصان تو بات آگے نہیں بڑھ پائے گی۔’

لیکن اگر بھارت سے آذاد تجارت سے نقصان کا خدشہ ہے تو دوسری جانب فائدے کا بھی امکان ہے۔ پاکستانی سٹیل کا کاروبار کرنے والے ایک صنعت کار نے بی بی سی کو بتایا کہ بھارتی سٹیل انڈسٹری میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی سے وہ بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں ’ہماری پاس یہ ٹیکنالوجی نہیں ہے۔’

اس کے علاوہ پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کی سبزیوں اور فروٹ کے بحرانوں میں بظاہر کمی پر قابو پانے میں مدد کرتے آ رہے ہیں۔ لیکن یہ ضرورت کی بنیاد پر تھی باقاعدہ نہیں تھی۔

دوسرا ایک شعبہ جس میں کچھ آمد و رفت جاری ہے وہ ہے سیاحت۔ بڑی تعداد میں ایک دوسرے ملک کے لوگ آتے جاتے ہیں لیکن بات پھر وہی ہے کہ یہ باضابطہ نہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تقریباً سولہ سال تک بھارت کو یہ درجہ دینے سے انکار سے پاکستان نے دیکھ لیا ہے کہ اسے سفارتی میدان میں کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا۔ نہ تو کشمیر حل ہو سکا اور نہ دہشتگردی پر کوئی قابو پایا جا سکا لہذا بہتر یہ ہے کہ اب اقتصادی فائدہ اٹھایا جائے لیکن اس حکومتی فیصلے پر مذہبی جماعتوں اور انتہا پسند شدید ناراض ہو سکتے ہیں۔

دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان ولن بن کر تو کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کروا سکا، اب گرل فرینڈ بنا کر کیا فائدہ اٹھایا سکتا ہے۔

اسی بارے میں