’اربوں روپے دے دیے گئے اور کسی نے کچھ نہیں پوچھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ کرائے کے بجلی گھروں کے مالکان کو اربوں روپے پیشگی ادا کردیے گیے لیکن کسی نے یہ پوچھنے کی کوشش نہیں کی کہ ان بجلی گھروں سے کتنی میگاواٹ بجلی سسٹم میں آئے گی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ قومی خزانے کا اس قدر غیر ذمہ دارانہ استعمال نہیں ہونا چاہیے تھا اور عدالت ان تمام معاملات کی تحقیقات کرائے گی۔

کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں ہونے والی مبینہ بدعنوانی سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ کسی نے ان نجی پاور کمپنیوں سے یہ تک پوچھنے کی جسارت نہیں کی کہ اس منصوبے میں کونسی سی مشینری استعمال ہوگی اور نہ ہی کمپنیوں سے اس ضمن میں کوئی گارنٹی لی گئی۔

ریشما پاور کمپنی کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ اُن کی کمپنی نے چھبیس فیصد سود پر ایڈوانس میں لیا تھا۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزارت پانی وبجلی کی رپورٹ کے مطابق رشما کمپنی کے ساتھ دو سو ایک میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا معاہدہ ہوا تھا بعدازاں اس کی صلاحیت کو کم کرکے نوے میگاواٹ کردیا گیا۔

اُنہوں نے کہا کہ دو سو ایک میگاواٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نجی پاور کمپنی کو چار ارب اور ساٹھ کروڑ سے زائد کی رقم ادا کی گئی جبکہ گُزشتہ دو ماہ کے دوران ریشما پاور کمپنی سے بجلی کی پیدوار نہ ہونے کے برابر تھی۔

عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ اُن کا موکّل چار ارب سے زائد کی رقم چھبیس فیصد مارک اپ سمیت واپس کرنے کو تیار ہیں۔

گلف گوجرانوالہ پاور کمپنی کے وکیل علی ظفر کا کہنا تھا کہ اُن کی کمپنی نے قواعد وضوابط کی پیروی کرتے ہوئے سب سے کم بولی دے کر معاہدہ کیا تھا اور یہ کمپنی اٹھانوے فیصد پیدوار دے رہی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر پالیسی میں کوئی خامی ہے تو اس کی ذمہ دار حکومت ہے۔

علی ظفر کا کہنا تھا کہ مذکورہ کمپنی کے مالکان نے ملکی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری کی جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سرمایہ کار کسی ملک سے محبت نہیں بلکہ منافعے سے محبت کے لیے سرمایہ کاری کرتا ہے۔

ٹیکنو پاور کمپنی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ اُن کی کمپنی نے سات فیصد مارک اپ پر ایڈوانس میں لی گئی رقم واپس کردی ہے۔

یاد رہے کہ مختلف نجی پاور کمپنیوں کو حکومت نے ایڈونس کی مد میں پچیس ارب روپے دیے تھے تاہم سپریم کورٹ کی مداخلت پر ابھی تک چار ارب روپے سے زائد کی رقم قومی خزانے میں واپس آ چکی ہے۔ اس خودنوٹس کی سماعت جمعرات کو بھی ہوگی۔