’اتنی مہنگی بجلی کہیں نہیں خریدی جاتی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ ملک میں بدعنوانی کا راج ہے

کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں مبینہ بدعنوانی سے متعلق از خودنوٹس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیے ہیں کہ ان بجلی گھروں سے جتنی مہنگی حاصل کی جارہی ہے اُس کی مثال دنیا میں کہیں نہیں ملتی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایک طرف حکومت عالمی مالیاتی ادارے اور ورلڈ بینک سے قرضوں کے حصول کے لیے معاہدے کر رہی ہے اور دوسری طرف ان بجلی گھروں کو پیٹرول فراہم کرنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کور ٹ کے دو رکنی بینچ نے جمعرات کو اس از خودنوٹس کی سماعت کی تو رشما پاور کمپنی کے عبدالحفیظ پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے بغیر سوچے سمجھے ان منصوبوں کی منظوری دی۔

اُنہوں نے کہا کہ حکومت نے اُنیس کرائے کے بجلی گھروں کی منظوری دی تھی جسے بعد میں پانچ کردیا گیا۔

عبدالحفیظ پیرزادہ کا کہنا تھا کہ ملک میں بدعنوانی کا راج ہے اور کرپشن کی یہ حالت ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کو دورہ پاکستان کے دوران یہ کہنا پڑا کہ حکومت بدعنوانی کو روکے۔

اُنہوں نے کہا کہ عدالت اس مقدمے میں کوئی بھی فیصلہ دے وہ ملکی مفاد میں ہونا چاہیے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت نے اپنے ہر فیصلے میں ملکی وقار کو مقدم رکھا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ کراچی میں امن وامان کی صورت حال سے متعلق از خود نوٹس پر عدالت نے جو فیصلہ دیا تھا وہ حکومت کے لیے انتباہ ( ویک اپ کال) ہے۔

چیف جسٹس نے وزارت پانی وبجلی کے وکیل خواجہ طارق رحیم سے پوچھا کہ کیا پارلیمنٹ اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ان منصوبوں کے بارے میں کوئی کلین چٹ دی تھی جس پر اُنہوں نے کہا کہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں ضرور زیر بحث آیا لیکن اس کو پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہوا۔

ریشما کے وکیل کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کا یہ حال ہے کہ ایک وفاقی وزیر ان منصوبوں میں دوسرے سابق وفاقی وزیر پر کرڑوں روپے رشوت لینے کا الزام عائد کر رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ منتخب عوامی نمائندے پارلیمنٹ میں داد رسی نہ ہونے پر عدالتوں سے رجوع کر رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے وزارت پانی وبجلی کے وکیل خواجہ طارق رحیم سے استفسار کیا کہ وہ ان کرائے کے بجلی گھروں سے اتنی مہنگی بجلی خرید رہے ہیں تو کوئی طریقہ کار وضح کیا ہے کہ عوام تک کس طرح اور کتنے داموں پر بجلی فراہم کی جائے گی۔ جس کا وہ کوئی جواب نہ دے سکے۔

اُنہوں نے کہا کہ اتنی مہنگے داموں بجلی دنیا میں کہیں بھی نہیں خریدی جاتی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ وہ کرائے کے ان بجلی گھروں کو تیل فراہم کیوں نہیں کر رہے جس پر وزارت پانی وبجلی کے وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس فنڈز نہیں ہیں۔

چیف جسٹس کا کہناتھا کہ اگر عاقبت اندیشی سے کام لیا جاتا تو ملکی قرضے سڑسٹھ ارب ڈالر تک نہ پہنچتے۔

خواجہ طارق رحیم کا کہنا تھا کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی نہیں ہو رہی جس پر بینچ میں شامل خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ اس کو چھوڑیں واپڈا کے اہلکار تو بجلی کی چوری کو بھی نہیں روک سکے۔ اس از خودنوٹس کی سماعت جمعہ کے روز بھی جاری رہے گی۔

اسی بارے میں