ایف ایم بلیٹنز کی بندش پر حکمِ امتناعی

سندھ ہائی کورٹ نے بی بی سی پاکستان کی درخواست پر پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا ہے۔ پیمرا نے ایف ایم سٹیشنوں کو بی بی سی کے مختصر دورانیہ کے نیوز بلیٹن نشر کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مقبول باقر نے بی بی سی پاکستان کی آئینی درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد یہ حکم امتناعی جاری کیا اور اکیس نومبر کے لیے پیمرا اور بی بی سی کے پارٹنر ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

مختصر دورانیے کے نیوز بلیٹن کراچی، لاہور، کوئٹہ، اسلام آباد، ملتان، پشاور، اور لاہور سمیت تینتیس ایم ایف سیٹشنوں سے نشر کیے جاتے ہیں۔

بی بی سی پاکستان نے یہ درخواست پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 31 اے کے تحت دائر کی ہے جو یہ کہتا ہے کہ اگر کوئی بھی پیمرا آرڈیننس سے متاثر ہو تو وہ اس کے فیصلے کے خلاف اپیل کرسکتا ہے۔

بی بی سی کی جانب سے بیریسٹر عدنان چوہدری عدالت میں پیش ہوئے انہوں نے کہا کہ تئیس ستمبر دو ہزار گیارہ کو پیمرا کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تیس دن کے اندر ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں سے بی بی سی کے بلیٹن کی نشریات بند کردی جائے۔ اس فیصلے سے تمام ایف ایم سٹیشنوں کو بھی آگاہ کردیا گیا۔

عدنان چوہدری نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا کا یہ فیصلہ بی بی سی کا پاکستان میں پورا آپریشن بند کردیتا ہے کیونکہ ان کا اول کام نیوز بلیٹن بنانا ہے۔ اگر اس فیصلے کے تحت ایف ایم سٹیشنوں کو روک دیا جاتا ہے تو سب سے منفی اثرات بی بی سی پاکستان پر ہوں گے۔

بیریسٹر عدنان نے پیمرا کے فیصلے فیصلے کو اظہار رائے اور پریس کی آزادی کے منافی قرار دیا اور کہا کہ اس سے عوام معلومات کے حصول کے حق سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ ’آئین کے تحت عوام کے پاس بھی یہ حق ہے کہ وہ یہ جانیں کہ ان کے آس پاس کیا خبریں ہیں جو انہیں متاثر کرسکتیں ہیں۔‘

انہوں نے عدالت سے درخواست کی کہ عدالتی کارروائی کے دوران پیمرا کے فیصلے کو معطل رکھا جائے، جس کو عدالت نے منظور کرلیا۔

اسی بارے میں