بگٹی کیس:سابق وزیراعلیٰ کے وارنٹ گرفتاری

اکبر بگٹی تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اکبر بگٹی پرویز مشرف کے دور حکومت میں ایک فوجی آپریشن کے دوران ساتھیوں سمیت ہلاک ہوئے تھے۔

بلوچ قوم پرست رہنماء نواب محمد اکبرخان بگٹی کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور رکن قومی اسمبلی میرجام یوسف کے وارنٹ گرفتاری کوئٹہ میں جاری کر دیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میرجام یوسف ان دنوں دبئی میں مقیم ہیں۔

جمعہ کے روز جوڈیشل مجسٹریٹ کوئٹہ فیصل حمید کی عدالت نے بلوچ بزرگ رہنماء نواب محمد اکبر خان بگٹی قتل کیس میں سابق وزیراعلی بلوچستان میرجام یوسف کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔

سابق وزیراعلیٰ بلوچستان میر جام یوسف کے وارنٹ گرفتاری بلوچستان ہائی کورٹ کے حکم پر اور کرائم برانچ کوئٹہ کی درخواست پر جاری ہوئے ہیں۔

کوئٹہ میں سرکاری ذرائع کے مطابق کرائم برانچ نے سابق وزیراعلیٰ کے وارنٹ گرفتاری کے احکامات وصول کر لیے ہیں۔

کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایو ب ترین کے مطابق مذکورہ عدالت نےاس سے قبل سابق فوجی صدر ریٹائرڈ جنرل پرویزمشرف، سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے علاوہ سابق صوبائی وزیر داخلہ میرشعیب نوشیروانی کے وارنٹ گرفتاری جاری کیےتھے۔

خیال رہے کہ نواب بگٹی قتل کیس میں نامزد سابق وزیراعظم شوکت عزیز، سابق وفاقی وفاقی وزیرداخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ اور سابق گورنر بلوچستان اویس احمد غنی کے بیانات پہلے ہی بلوچستان ہائی کورٹ میں داخل ہو چکے ہیں جن میں ان تینوں رہنماؤں نے نواب بگٹی قتل سے لاتعلقی کا اظہار کیاہے۔

بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبربگٹی چھبیس اگست سال دوہزار چھ میں جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں بلوچستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے دو دوران اپنے ساتھیوں سمیت ہلاک ہوئے تھے۔

پاکستانی حکومت نے نواب اکبرخان بگٹی کے قتل کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ کے جج کی سربراہی میں ایک اعلیٰ عدالتی کمیشن قائم کیا ہے۔

اسی بارے میں