بلوچستان: صحافی کی لاش ملنے پر تشویش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service

بلوچستان کے علاقے خضدار سے لاپتہ صحافی نصیر رند کی مسخ شدہ لاش ملی ہے جس پر صحافتی تنظیموں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب لاپتہ افراد کی لاشیں ملنے میں تیزی آنے کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی نے صوبہ بھر میں احتجاجی مظاہرے کیے۔

بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق، سنیچرکو خضدار کے مقامی لیویز کو ایک مسخ شدہ لاش ملی جسے شناخت کے لیے سول ہپستال خضدار منتقل کردیا گیا جہاں ان کی شناخت نصیر رند کے نام سے ہوئی جو حب کے مقامی صحافی تھے اور انہیں ایک ماہ قبل نامعلوم افراد نے حب سے اغواء کیا تھا۔

بلوچستان یونین آف جرنلسٹ کے صدر عیسٰی ترین نے صحافی نصیر رند کی ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ بلوچستان میں اب تک پندرہ صحافی ہلاک ہوچکے ہیں جن میں سے اکثر کی ذمہ داری مختلف تنظیموں نے بھی قبول کی ہے لیکن آج تک نہ تواس میں ملوث افراد کی گرفتاری ہوئی ہے اور نہ ہی حکومت کی جانب ان کے ورثاء کو کوئی مالی امداد دی گئی ہے۔

ادھر بلوچستان نیشنل پارٹی نے بھی صوبے میں لاپتہ افراد کی مسلسل لاشیں ملنے کے خلاف سنیچر کو کوئٹہ سمیت صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے ہفتہ کی شام ایک مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے حکومت سے لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنے کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سیکریٹری اطلاعات آغا حسن بلوچ نے اس بارے میں مزید بتایا کہ گزشتہ دنوں پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جہانزیب بلوچ کے بھانجے اور بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے رکن فراز بلوچ اور امید علی جاموٹ کی مسخ شدہ لاشیں ملی تھی جس پر بی این پی نے جمعہ کو صوبہ بھر میں شٹرڈاؤں ہڑتال کی تھی۔

آغا حسن بلوچ نے کہا کہ اکیسویں صدی میں بھی بلوچستان میں مارشل لاء جیسا نظام ہے، انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے لیکن صوبائی اور مرکزی حکومت کی جانب سے ان واقعات کے روکنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا جارہا ہے۔

بلوچستان میں لاپتہ افراد کے لواحقین کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ سال جولائی میں لاپتہ افراد کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اب تک صوبے کے مختلف علاقوں سے تین سو سے زیادہ لاشیں مل چکی ہیں جن میں پچاس کی شناخت بھی نہیں ہوسکی ہے۔

اسی بارے میں