جنوبی وزیرستان: ایک سردار اور دو راہ گیر ہلاک

جنوبی وزیرستان تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حملے کے بعد امان اللہ کے ساتھیوں نے بھی جوابی کارروائی کی ہے جس میں ایک حملہ آور مارا گیا

پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مُسلح حملہ آوروں نے حکومتکے حامی ایک سردار اور دو راہ گیروں کو ہلاک کر دیا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ اتوار کو صدر مقام وانا سے کوئی پندرہ کلومیٹر دور مغرب کی جانب اعظم ورسک میں ایک نان کسٹم پیڈ گاڑی میں سوار مُسلح نقاب پوشوں نے ایک معروف قبائلی سردار ملک سعیداللہ کے چھوٹے بھائی آمان اللہ پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ چائے کے ایک ہوٹل میں چائے پی رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ فائرنگ کے نتیجہ میں امان اللہ، اور دو راہ گیرموقع ہی ہلاک ہو گئے جب کہ دیگر چار راہ گیر شدید زخمی ہو ئے ہیں۔ زخمیوں کو وانا ضلعی ہسپتال میں داخل کرا دیا گیا ہے۔

اہلکار کے مطابق امان اللہ پر حملہ اس وقت ہوا جب وہ کچھ دیر پہلے اپنے گھر سےاعظم ورسک بازار پہنچے تھے اور ہوٹل میں ایک دوست کے ساتھ چائے پی رہے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے دوسرے دونوں راہ گیر چھوٹے بچے تھے جن میں ایک مقامی اور دوسرا افغانستان کا رہائشی بتایا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حملے کے بعد امان اللہ کے ساتھیوں نے بھی جوابی کارروائی کی ہے جس میں ایک حملہ آور مارا گیا اور اس کی شناخت مقامی لوگوں نے ایک غیر مقامی شخص کے طور پر کی ہے۔ اہلکار کے مطابق حملے کے بعد گاڑی وانا بازار کی جانب فرار ہوگئی ہے۔

اس واقعے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے بعد سے اب تک سکیورٹی فورسز اور حکومت کے حامی سینکڑوں افراد نامعلوم افراد کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں