سندھ کے متاثرین سیلاب کی عید

فائل فوٹو تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption متاثرین گھروں کے بجائے امدادی کیپموں یا اونچے ٹیلوں پر منا رہے ہیں۔

پاکستان میں مسلمان آج اپنا مذہبی تہوار عید الاضحیٰ منا رہے ہیں۔ اس موقع پر ملک بھر میں قربانی کے لیے جانوروں کی خریدو فروخت رات گئے تک جاری رہی۔

صوبہ سندھ میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ابھی تک صوبے کے نصف حصے میں پانی کھڑا ہے جہاں کے مکینوں نے شکوہ کیا کہ لوگوں نے عید کے موقع پر انہیں فراموش کر دیا ہے۔

صوبہ سندھ کے نصف سے زیادہ علاقے میں اب بھی پانی کھڑا ہے جہاں بے گھر اور بے زمین ہونے والے کاشتکار اور مزدور عید اپنے گھروں کے بجائے امدادی کیپموں یا اونچے ٹیلوں پر منا رہے ہیں۔

گزشتہ برس دریائے سندھ کے دائیں کنارے پر مقیم افراد کی عید اور بقر عید سیلاب کی نذر ہو گئی تھی اور رواں سال بارش اور سیلابی پانی نے بائیں کنارے کے مکینوں کو عید سے خوشیوں سے محروم رکھا ہوا ہے۔

سندھ کے بعض علاقوں خاص طور سے بالائی حصے سے سیلابی پانی کی نکاسی خاصی حد تک ہو چکی ہے۔ ضلع میرپور خاص کے قصبوں ڈگری جھڈو، ٹنڈو جان محمداور نوکوٹ میں کاروبار زندگی معمول پر آ رہا ہے۔

تاہم نوکوٹ کے ایک صحافی نے ٹیلی فون پر بتایا کہ فضل وہاب شہر میں تو پانی اب نہیں ہے لیکن اردگرد کی سارا علاقہ پانی میں ڈوبا ہوا ہے جس سے عید کی تیاریوں میں خلل پڑ رہا ہے۔

’روشن آباد کا پانی خاصی مشکل پیدا کر رہا ہے۔ تین دن سے ٹریفک بھی بند ہے اس لیے قربانی کے جانور بھی ہمارے علاقے تک نہیں پہنچ پائے۔‘

ضلع بدین کے بھی بعض علاقوں سے پانی کی نکاسی ممکن تو ہوئی ہے لیکن اب بھی جا بجا متاثرین کے کیمپ نظر آتے ہیں جہاں عید کی تیاریوں کا نام و نشان نہیں ہے۔

اس کیمپ کے ایک رہائشی آدم رِند نے بتایا کہ اُن کے بچے اونچے ٹیلے پر بیٹھے ہیں اور ان کے لیے عید اور عام دن میں کوئی فرق نہیں ہے۔

’ہم تو یہاں خدا کے آسرے پر بیٹھے ہیں۔ عید کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ میرے گاؤں میں چار فٹ پانی کھڑا ہے ایسے میں نہ وہاں واپس جا سکتے ہیں اور نہ ہی عید منا سکتے ہیں۔‘

’ہماری یونین کونسل شیر خان چانڈیو میں پانی ابھی بھی کھڑا ہے۔ ایسے میں کیسی عید اور کہاں کی تیاریاں؟‘

ضلع عمر کوٹ کے قصبوں کنڈڑی، سامارو، نبی سر اور نوہٹو وغیرہ میں بھی کہیں سے پانی کی نکاسی ہو چکی ہے اور کہیں پانی موجود ہے۔

کنڈڑی میں بیشتر لوگوں کا ذریعہ معاش سرخ مرچ کی فصل ہے جو اس سال مکمل طور پر پانی کی نذر ہو گئی۔ اس علاقے کے لوگ کاشت کے باوجود فصل حاصل نہ ہونے کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہیں۔ اس کے باوجود مقامی افراد کے مطابق اس قصبے کے مکین عید کا دن نزدیکی کیمپبوں میں رہائش پذیر سیلاب کے متاثرین کے ساتھ منا رہے ہیں۔

اس فیصلے سے کنڈڑی کے سیلاب کے متاثرین بہت خوش دکھائی دیتے ہیں۔ اس کیمپ میں اپنے خاندان کے ہمراہ رہنے والے حاجی خان چانڈیو نے بتایا کہ وہ خود تو عید کے لیے کوئی تیاری نہیں کر پائے لیکن قصبے کے لوگ قربانی کے جانور ان کے کیمپوں میں لا رہے ہیں۔

’کنڈڑی کے لوگ ہمارے ساتھ بہت تعاون کر رہے ہیں۔ وہ قربانی ہمارے کیمپ میں آ کر کریں گے اور ہم عید انہی کے ساتھ منائیں گے۔‘

اسی بارے میں