کراچی: قبروں کی بے حرمتی، مقدمہ درج

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption عید کے روز جب لوگ روایت کے مطابق قبرستان گئے تو وہاں انسانی ہڈیاں بعض قبروں سے باہر نظر آئیں: گل حسن

کراچی میں قبروں کی بے حرمتی کا واقعہ منظرِ عام پر آنے کے بعد پولیس نے نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔

گڈاپ ٹاؤن پولیس نے گوٹھ غلام محمد کی ایک معزز شخصیت حاجی خداد جوکھیو کی شکایت پر یہ مقدمہ درج کیا ہے۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق میڈیا میں قبروں کی بے حرمتی کی خبریں آنے کے بعد کراچی کی شہری حکومت کے اہلکار قبرستان پہنچے جہاں قبروں سے باہر موجود انسانی ہڈیوں کی دوبارہ تدفین کی گئی۔

کراچی کی تاریخ پر سندھی میں لکھی گئی کتاب ’کراچی سندھ جی مارئی‘ کے مصنف گل حسن کلمتی گوٹھ غلام محمد سے دو کلومیٹر دور رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جادو ٹونہ کرنے والے عاملوں کا کام ہو سکتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ بارشوں کے بعد سے لوگ قبرستان نہیں گئے تھے اس لیے کسی کے نوٹس میں یہ بات نہیں آئی۔ عید کے روز جب لوگ روایت کے مطابق قبرستان گئے تو وہاں انسانی ہڈیاں بعض قبروں سے باہر نظر آئیں۔

کلمتی کے مطابق ایسی سترہ قبریں ہیں جن کی بے حرمتی کی گئی ہے جبکہ سات قبریں ایسی تھیں جن میں سے انسانی کھوپڑیاں اور کچھ دیگر اعضاء غائب تھے۔

قبروں کی بے حرمتی کا پندرہ روز میں یہ دوسرا واقعہ ہے اس سے قبل پولیس نے شہر کے ایک قبرستان سے ایک گورکن کو گرفتار کیا تھا جس نے خواتین کی تیس کے قریب قبریں کھود کر بے حرمتی کرنے کا اعتراف کیا تھا۔

اسی بارے میں