سندھ میں تین ہندو قتل

Image caption سندھ میں ہندو بڑی تعداد میں آباد ہیں

ایک ڈاکٹر سمیت تین ہندوافراد کا کریا کرم آج دوپہر سکھر کے مشہور ہندوہوں کے مقدس مقام سادھو بیلا میں کر دیا گیا۔

ہندو برادری کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔ چار افراد پر شکارپور کے ایک گاؤں چک میں ڈاکڑ ستیا پال کی بیٹھک میں بیٹھے ہوئے ان لوگوں پر عید الاضحٰی کی سہ پہر نامعلوم افراد نے حملہ کر دیا تھا۔

حملہ اتنا اچانک تھا کہ یہ لوگ سنبھل ہی نہ پائے اور فائرنگ میں ڈاکٹر اجیت سمیت تین افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے تھے جب کہ ڈاکٹر ستیا پال شدید زخمی ہو گئے تھے۔ ہلاک شدگان میں ایک شخص میڈیکل اسٹور اور دوسرا جنرل اسٹور کا مالک تھا۔

ان لوگوں کی ہلاکت پر سندھ بھر میں ہندو برادری نے آج سوگ منانے کا اعلان بھی کیا ہے۔ حیدرآباد میں ینگ ہندو پنچائت کی اپیل پر ایک احتجاجی جلوس بھی نکالا گیا جس میں مسلمانوں نے بھی شرکت کی۔

ڈاکٹر اجیت چار بچوں کے والد تھے اور اپنے گھر کی واحد کفیل تھے۔

پولیس نے ان لوگوں کے قتل کے شبہ میں ضلع شکارپور کی ایک بڑی برادری بھیو ذات سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور ملزمان پر دباؤ ڈالنے کی غرض سے ان کے بال بچوں کو بھی گھر سے لاکر تھانے میں بٹھا دیا گیا ہے ۔ بھیو برادری کے سردار واحد بخش بھیوکا کہنا ہے کہ پولیس کے اس عمل سے بھیو برادی میں اور زیادہ اشتعال پیدا ہو گیا ہے۔

سکھر میں ہندو پنچائت کے مکھی ایشور ماکھےجا کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان ہندو اور بھیو برادری میں سمجھوتہ کرانے کی کوشش میں مصروف تھے۔ شکار پور میں ہندوؤں کے تہوار دیوالی کے موقع پر پولیس نے دو ہندو نوجوانوں کو حراست میں لیا تھا۔

پولیس نے یہ کارروائی حفظِ ما تقدم کے طور پر اس وقت اٹھائی تھی جب ہندو نوجوانوں پر بھیو برادری کی ایک عورت کے ساتھ تعلق کی اطلاعات پر شہر میں فساد پھوٹنے پڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔

سردار واحد بخش کا کہنا ہے کہ لڑکی کو اغواءکیا گیا تھا اور پانچ افراد نے اس کی عصمت دری کی تھی۔ بعض اخبار نویسوں نے بتایا ہے کہ وہ عورت دیوالی کے تہوار پر ہندو نوجوانوں کی دعوت پر ان کے پاس گئی تھی۔

عورت کے معاملہ پر پولیس کے پاس کسی نے باقاعدہ رپورٹ درج نہیں کرائی تھی۔

پولیس نے حفظ ما تقدم کے طور پر ہندو نوجوانوں کو حراست میں تو لے لیا تھا لیکن اس اطلاع نے جلتی پر تیل کا کام کیا کہ پولیس نے ان دونوں افراد نکاش اور سندیپ عرف تیجو کو رہا کر دیا ہے۔

دوسری طرف ہندو برادری میں بھی اشتعال پھیل رہا ہے ۔ بعض ہندو اس قسم کے ایس ایم اسی بھیج رہے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں نے عید کے روز ہندوؤں کو یہ تحفہ دیا ہے۔ تمام ایس ایم میں کہا جارہا ہے کہ چار ہندو ڈاکٹروں کو قتل کر دیا گیا ہے۔اً شکارپور میں مقیم ہندو برادری کے لوگوں میں بھی خوف پایا جاتا ہے۔