خیبر پختونخوا، لڑکیوں کا سکول تباہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دھماکے سے سکول کے تین کمرے مکمل طور تباہ ہوگئے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں حکام کے مطابق لڑکیوں کے ایک سکول میں بم دھماکے کے نتیجے میں سکول کے تین کمرے مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ چار کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔

مردان میں ایک پولیس اہلکار رحمان گل نے نامہ نگار دلاورخان وزیر کو بتایا کہ عید کے دوسرے روز تحصیل کاٹلنگ میں شہر سے کوئی پانچ کلومیٹر دور شمال کی جانب ڈھیری میں لڑکیوں کے ہائی سکول میں اس وقت ایک زودار دھماکہ ہوا ہے جب سکول میں کوئی موجود نہیں تھا۔

انہوں نے کہا کہ دھماکے سے سکول کے تین کمرے مکمل طور تباہ ہوگئے ہیں جبکہ چار مذید کمروں کو بھی جزوی نقصان پہنچا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نامعلوم شدت پسندوں نے سکول کے تین حصوں میں بارودی مواد نصب کیا تھاجو رات کو پھٹ گیا۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک عرصے سے ضلع میں موجود لڑکیوں کے سکولوں پرحملوں کے واقعات میں کمی واقع ہوئی تھی لیکن اب ایک بار پھر حملوں میں اٰضافہ ہوا ہے۔

اہلکار کے مطابق کچھ عرصہ پہلے جب مردان میں لڑکیوں کے سکولوں پر حملوں میں اضافہ ہوا تھا تو اس وقت مقامی انتظامیہ نے شہر میں پولیس کےگشت میں اضافہ اور چوکیداروں کو بھرتی کرنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔

دریں اثناء مردان سے متصل ایک اور ضلع صوابی میں سابق تحصیل ناظم پر ہونے والے خود کش حملے میں ان کا سات سالہ بیٹا زخموں کی تاب نہ لا کر ہلاک ہو گیا ہے۔

واضح رہے کہ ضلع صوابی کی تحصیل گدون احمدزئی میں عیدالاضحی کے موقع سابق تحصیل ناظم حنیف جدون پر اس وقت ایک خودکُش حملہ ہوا تھا جب وہ نماز عید کے بعد اپنے گھر واپس جارہے تھے۔

اس دھماکے میں تین افراد ہلاک جبکہ پانچ زخمی ہوئے تھے۔

اسی بارے میں