بنگلہ دیش کا پاکستان مخالف ووٹ

فائل فوٹو، ڈبلیو ٹی او تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ڈبلیو ٹی او کے چارٹر کے تحت کسی بھی ملک کو دی جانے والی رعایت کے لیے تمام رکن ممالک کا متفق ہونا ضروری ہے۔

پاکستان کے سفارتی حلقے اور تاجر برادری ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) میں بنگلہ دیش کی جانب سے پاکستان کے حق میں ووٹ نہ دینے پر شدید حیرت اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔

ماضی میں یہ اعتراض بھارت کی جانب سے آتا رہا ہے مگر پاکستان کی جانب سے بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ملک قرار دینے کے بعد بھارت نے اپنا اعتراض واپس لے لیا تھا۔

سوموار کو ڈبلیو ٹی او کے اجلاس سے پہلے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ پاکستان کو دی جانے والی مجوزہ رعایت منظور ہوجائے گی۔

ڈبلیو ٹی او کے چارٹر کے تحت کسی بھی ملک کو دی جانے والی رعایت کے لیے تمام رکن ممالک کا متفق ہونا ضروری ہے۔

ڈبلیو ٹی او میں پاکستان کے مستقل مندوب شاہد بشیر نے بی بی سی کو بتایا کہ بنگلہ دیش نے ڈبلیو ٹی او کے اجلاس میں کہا کہ انہیں ان کے دارالحکومت سے اس بارے میں کوئی ہدایات موصول نہیں ہوئی ہیں کہ وہ کیا موقف اپنائیں اس لیےوہ ابھی اس پر مزید بات نہیں کرناچاہتےہیں۔

انہوں نےکہا کہ یہ معاملہ نومبر دو ہزار دس سے چل رہا ہے اور اب ہم اس کے قریب پہنچ گئے ہیں مگر ابھی اسے عبور نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش نے متعدد مرتبہ اپنی مدد کا یقین دلایا تھا اور ان سے ہم مستقل بات کر رہے تھے۔ دولتِ مشترکہ کے اجلاس کے دوران آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں پاکستان اور بنگلہ دیش کے وزرائے اعظم کے درمیان اس پر بات ہوئی تھی۔

شاہد بشیر کا کہنا تھا کہ بنگلہ دیش کے جنیوا میں سفیر نے بھی انہیں اپنی مدد کا یقین دلایا تھا اور اتوار کو اجلاس سے ایک دن پہلے عید کے روز بھی ان کی بنگلہ دیش کے سفیر سے بات ہوئی تھی جنہوں نے کہا تھا کہ وہ اس میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال پاکستان میں آنے والے تباہ کُن سیلاب کے بعد پچھلے سال نومبر میں یورپی یونین کے ستائیس ممالک نے پاکستان کے لیے ایک رعایتی پیکج کا اعلان کیا تھا جس کے تحت یورپی ممالک پاکستان سے درآمد کی جانے والی پچھتر مصنوعات پر ڈیوٹی میں کمی کریں گے تاکہ پاکستان کی معیشت کو سہارا دیا جاسکے۔

شاہد بشیر نے آئندہ کے لائحہ عمل کے بارے میں کہا کہ مالدیپ میں سارک سربراہی کانفرنس جاری ہے جہاں اس بات کا قوی امکان ہے کہ وزیرِاعظم وہاں سائیڈ لائنز پر اس معاملے کو اٹھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ویسے تو ڈبلیو ٹی او کی آئندہ میٹنگ میں ابھی وقت ہے مگر اگر ہمیں یقین ہو کہ اب مخالفت نہیں ہوگی تو ہم ایمرجنسی میٹنگ بھی بلاسکتے ہیں مگر ابھی مزید انتظار کرنا ہو گا۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کو کسی بھی صورت سفارتی ناکامی قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ ڈیڑھ سو ممالک کو اپنے ساتھ رکھنا ناکامی نہیں ہے۔

دوسری جانب پاکستان چیمبر آف کامرس اور انڈسٹری کے صدر حاجی غلام علی نے بی بی سی کو اس بارے میں بتایا کہ بنگلہ دیش کا یہ اقدام غیرمتوقع ہے اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہونےکاخطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سارک ممالک کی چیمبرز آف کامرس کی صدارت بنگلہ دیش کے پاس ہے اور اس لیے اس کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اپنے عہدے کا پاس رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک انہیں بنگلہ دیش کی مخالفت کی وجہ نہیں معلوم ہوسکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ انہوں نے بھارت کا دورہ کیا تھا اور بھارت کو اس بات پر قائل کیا تھا کہ وہ پاکستان کی مخالفت نہیں کرے اور بھارت نے اپنا وعدہ نبھایا حالانکہ کہ پاکستان کے بھارت سے بہت سے معاملات حل طلب ہیں۔

انہوں نےکہا کہ سارک ممالک کے درمیان تجارت کو فروغ دینا ان کا مقصد ہے اور اس عمل کو اب نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش پاکستان سے کئی اشیاء درآمد کرکے ان پر اپنا لیبل لگا کر بیچتا ہے۔ بہرحال وہ اپنا کردار ضرور ادا کریں گے۔

اسی بارے میں