قتل کے بعد عید کے چوتھے روز بھی سوگ

سندھ میں تین ہندو نوجوانوں کا قتل تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption صدر آصف علی زرداری کی جانب سے واقعے کے از خود نوٹِس لینے کے بعد چک میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات کردی گئی ہے۔

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلعے شکارپور کے شہر چک میں عید کے روز ایک ڈاکٹر سمیت تین ہندو نوجوانوں کے قتل کے بعد آج جمعرات بھی شہر کے بازار اور دکانیں بند رہیں۔

چک لکھی غلام شاہ تحصیل کی یونین کونسل ہے جہاں سو سے زائد ہندو کمیونیٹی کے گھر ہیں اور یہ لوگ زیادہ تر تجارت سے وابستہ ہیں۔ چک سے نوجوان مکیش کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہندؤں کے ساتھ مسلمانوں کی دکانیں بھی سوگ میں بند ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کی جانب سے واقعے کے از خود نوٹِس لینے کے بعد چک میں پولیس کے ساتھ رینجرز بھی تعینات کردی گئی ہے۔ جبکہ ایس ایچ او چک کو غفلت برتنے پر معطل کردیا گیا ہے۔

دوسری جانب پولیس نے اشوک کمار، اجیت کمار اور سریش کمار کے قتل کا مقدمہ انسدادِ دہشت گردی کے ایکٹ کے تحت دائر کیا ہے۔

پولیس نے سات ملزمان احسان اللہ، عبیداللہ، عبدالغنی، عبدالرؤف، عبدالطیف اور دیگر کا جیکب آباد میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے جج عبدالرشید سومرو سے سات روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا ہے۔

گرفتار کیے جانے والے ملزم احسان اللہ نے واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل ملزم ان کی برداری سے تعلق نہیں رکھتے۔ تاہم ایس پی شکارپور جنید شیخ نے ان ملزمان کو ہی حقیقی ملزم قرار دیا ہے۔

پولیس تینوں نوجوانوں کے قتل کے محرکات کو اب تک سامنے لانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔

مقامی میڈیا کے مطابق سندیپ نامی نوجوان بھیو کمیونٹی کی لڑکی سے محبت کرتا تھا اور ایک روز جب وہ کسی جگہ پر ملاقات کر رہے تھے تو پکڑے گئے۔ بعد میں پنچائیت نے دو نوجوانوں کو پولیس کے حوالے کیا جبکہ بھیو سردار سے عید کی چھٹیوں میں معاملہ برادری کی سطح پر نمٹانے کا طے کیا۔

مقامی ہندو پنچائیت کے رہنما ایشور لال کا کہنا ہے کہ تقریباً پندرہ روز قبل دیوالی سے ایک دو روز پہلے ان کے دو نوجوانوں پر ایک مسلمان لڑکی سے چھیڑ چھاڑ کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ پنچائیت نے دونوں کو پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا اور وہ ابھی تک زیرِ حراست ہیں۔

اس موقف کے برعکس بھیو برداری کے سردار واحد بخش بھیو کا کہنا ہے کہ پانچ کے قریب ہندو نوجوانوں نے ان کی برداری کی لڑکی کو اغواء کر کے مبینہ طور پر جنسی زیادتی کی تھی اور پنچائیت نے صرف دو نوجوانوں کو پولیس کے حوالے کیا جبکہ متاثرہ فریق دیگر تین نوجوانوں کی گرفتاری کا مطالبہ کر رہی تھی۔

دوسری جانب ایس پی شکارپور جنید شیخ نے اس پوری صورتحال پر تبصرے سے انکار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پولیس ابھی تفتیش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں