’عمران خان، امریکہ اور یورپ کے غلام‘

Image caption عمران خان نے حال ہی میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ لبرل ہیں اور طالبان شدت پسندوں کی حمایت نہیں کرتے

تحریکِ طالبان پاکستان نےتحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے خود کو ’لبرل‘ کہ کر ثابت کر دیا ہے کہ وہ امریکہ اور یورپ کے غلام ہیں۔

تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے بی بی سی کو بتایا کہ لبرل انگریزی زبان کا لفظ ہے اس لیے عمران خان کو چاہیے کہ اگر وہ اپنے آپ کو عوام کا نمائندہ سمجھتے ہیں تو وہ پاکستانی عوام کی زبان میں بات کریں جو کہ اردو زبان ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ترجمان کے مطابق عمران خان نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے طرف دار نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا ’ہم بھی اس غلط فہمی میں نہیں ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ عمران خان ہمارا طرفدار نہیں ہے۔‘

واضح رہے کہ تریکِ انصاف کے سرہراہ عمران خان نے حال ہی میں بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ لبرل ہیں اور طالبان شدت پسندوں کی حمایت نہیں کرتے۔

طالبان ترجمان نے لبرل لفظ کی تشریح کچھ یوں کی ’اپنے آپ کو لبرل کہنے والا شخص دراصل خود کو اسلام سمیت تمام مذاہب سے آزاد سمجھتا ہے یعنی لبرل شخص کسی بھی مذہب کو نہیں مانتا اور خاص کر اسلام اور توحید کا مُنکر ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ پاکستان کے بعض رہنماء امریکہ کے غلام ہیں۔

ترجمان کے مطابق وہ عمران خان کو بتانا چاہتے ہیں کہ وہ تو ان امریکیوں کے غلام ہیں جو اب اس دنیا میں بھی نہیں ہیں۔

دوسری جانب صوبہ خیبر پختونخوا میں تحریکِ انصاف کے ترجمان زاہد حسین مومند نے بتایا کہ پاکستان تریکِ انصاف پاکستان کے قبائلی علاقوں میں جنگ کے خلاف ہےاور جب وہاں جنگ رک گئی تو پاکستان میں شدت پسندی ختم ہوجائےگی۔

اسی بارے میں