بھارت پسندیدہ، بلوچ رہنماء ناراض

پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے سابق صدر سینیٹر نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی نے پاکستان کی جانب سے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دیئے جانے پر حیرانی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں جن رہنماؤں کو بھارت سے تعلقات کے جرم میں غدار قرار دیا گیا اور ظلم و تشدد کا نشانہ بنایاگیا ریاست کو ان تمام سیاسی رہنماؤں سے معافی مانگنی چاہیے۔

لشکر رئیسانی نے کہا کہ بلوچستان، سندھ اور اس وقت کے صوبہ سرحد صوبے کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ بھارت ہمارا دشمن نہیں بلکہ ہمسایہ ملک ہے لیکن ریاست یہ تسلیم کرنے کو تیار نہ تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہاں تک کہاگیا کہ بلوچستان میں تخریب کاری اور قتل و غارت گری کا جوسلسلہ جاری ہے اس میں بھی بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کا ہاتھ ہے۔

ناراض بلوچوں سے مذاکرات کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں لشکری رئیسانی نےکہا کہ ریاست مذاکرات میں سنجیدہ نہیں ہے جس کی وجہ سے مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھ پا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں دونوں فریقین کو قصور وار مانتا ہوں کیونکہ دونوں اطراف سے متضاد بیانات سامنے آ رہے ہیں۔’ لیکن زیادہ ذمہ داری ریاست پر عائد ہوتی ہے کیونکہ ریاست طاقتور ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ان سے رابطہ کیا ہے اور وہ باعزت طریقے سے مذاکرات کے عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں لیکن اس حوالے سے انہیں خاطر خواہ جواب نہیں ملا جس پرانہیں مایوسی ہوئی۔

انہوں نے کہا اعتماد کی فضاءکو پروان چڑھانے اور مذاکرات کا عمل آگے بڑھانے کی بجائے مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کیا جا رہا ہے جو نیک شگون نہیں ہے۔