پاکستانی تجارتی وفد بھارت روانہ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ان اشیاء میں مشینری کے علاوہ ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت کے لیے خام مال بھی شامل ہے

پاکستان کے سیکرٹری تجارت کی سربراہی میں ایک وفد باہمی تجارت پر بات چیت کی غرض سے سنیچر کو بھارت روانہ ہوگیا ہے۔

یہ دو روزہ بات چیت پیر سے دلی میں شروع ہو رہی ہے جس میں پاکستان کے سیکرٹری تجارت ظفر محمود اور ان کے بھارتی ہم منصب راہول کھلر اپنے اپنے وفود کی قیادت کریں گے۔

پاکستانی وفد کی بھارت روانگی سے ایک دن پہلے ہی پاکستان نے بھارت سے قابل درآمد اشیاء کی فہرست میں مزید بارہ چیزوں کے اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

پاکستان کی وزراتِ تجارت نے وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابط کمیٹی یعنی ای سی سی کو ایک سمری بھیجی تھی جس میں سفارش کی گئی تھی کہ وہ بھارت سے درآمد کرنے والی اشیاء کی فہرست میں اضافہ کرے۔

ای سی سی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس نے جمعہ کو ہونے والے اپنے ایک اجلاس میں بارہ اشیاء کو قابل درآمد اشیاء کی فہرست میں شامل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان اشیاء میں مشینری کے علاوہ ٹیکسٹائل اور چمڑے کی صنعت کے لیے خام مال بھی شامل ہے۔

پاکستان کی کابینہ نے حال ہی میں بھارت کو تجارت کے لیے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی منظوری دی ہے جبکہ بھارت پاکستان کو سن انیس سو چھیانوے میں پسندیدہ ترین ملک قرار دے چکا ہے۔

نامہ نگار ذوالفقارعلی کے مطابق اگرچہ دونوں ممالک کی کل آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے لیکن اس کے باجود سنہ دو ہزار نو، دس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت صرف ایک اعشاریہ چار بلین ڈالر رہی جبکہ ایک اندازے کے مطابق تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے ذریعے ہوئی۔

پاکستان کے وفاقی وزیرِ تجارت امین فہیم نے اپنے پانچ روزہ دورۂ بھارت سے واپسی پر رواں ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان جلد ہی تجارتی سرگرمیاں بڑھیں گی اور اس ضمن میں حائل تمام رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تجارت کو اگلے تین سالوں میں چھ ارب ڈالر تک بڑھایا جائے گا۔

سیاسی تنازعات خصوصاً مسئلہ کشمیر کی وجہ سے پاکستان ماضی میں بھارت کے ساتھ تجارت بڑھانے سے کسی حد تک گریزاں رہا لیکن حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں قدرے بہتری کے بعد دونوں باہمی تجارت میں اضافے کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے درمیان بھی اسی ہفتے مالدیپ میں سارک سربراہی کانفرنس کے موقع پر ملاقات ہوئی جس کے بعد انہوں نے باہمی تعلقات کی بہتری کے لیے دو طرفہ مذاکرات میں ٹھوس پیش رفت کی مشترکہ خواہش کا اظہار کیا تھا۔

اسی بارے میں