ایم آئی کے اہلکاروں کا قتل: تین افراد زیرِ حراست

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption جہاں سے ایم آئی کے اہلکاروں کی لاشیں ملیں وہاں تک کا راستہ انتہائی دشوار گزار ہے

پاکستان کے صوبۂ پنجاب کے علاقے پنڈ دادن خان میں ملٹری انٹیلیجنس یعنی ایم آئی کے اہلکاروں کی ہلاکت کے سلسلے میں پولیس نے تین افراد کو حراست میں لیا ہے جبکہ علاقے میں مزید افراد کی تلاش جاری ہے۔

تینوں افراد جنہیں حراست میں لیا گیا ہے ان کے بارے میں حکام کو شبہ ہے کہ وہ شدت پسندوں کو سہولیات فراہم کرتے تھے جن میں خوراک، پانی، اسلحہ اور دیگر اشیاء شامل تھیں۔

پولیس کی ایلیٹ فورس کے جوانوں کی بھاری نفری علاقے میں تلاش میں مصروف ہے اور اسے شدت پسندوں کے خالی ٹھکانے ملے ہیں۔

شدت پسندوں نے کچی اینٹوں اور گارے سے اپنے ٹھکانے پہاڑی علاقے پر بنائے تھے جہاں صرف پیدل ہی جایا جاسکتا ہے۔ جبکہ جہاں سے ایم آئی کے اہلکاروں کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں وہاں تک کا راستہ پہاڑی سلسلہ شروع ہونے سے تین گھنٹے کی مسافت پر ہے جو انتہائی دشوار گزار ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں میجر آفاق اور صوبیدار ہدایت سمیت چار اہلکار شامل ہیں جن کی نماز جنازہ اتوار کی صبح راولپنڈی کے ریس کورس گراؤنڈ میں ادا کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ ایک مقامی شہری بھی ہلاک ہوا تھا۔

یاد رہے کہ پِنڈ دادن خان میں شدت پسندوں نے فوجی کارروائی میں ملٹری انٹیلیجنس یعنی ایم آئی کے چار اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ جوابی کارروائی میں پانچ شدت پسند بھی مارے گئے۔

دوسری جانب وفاقی وزیرِداخلہ رحمان ملک نے بی بی سی کو بتایا کہ خفیہ اداروں کو اطلاع ملی تھی کہ اس علاقے میں کالعدم تنظمیوں اور جرائم پیشہ عناصر نے پناہ لے رکھی ہے جس پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔

سکیورٹی کے ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ شدت پسندوں کے خلاف یہ کارروائی پولیس اور دیگر قانون نافد کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر کی گئی۔

انٹیلیجنس کے ذرائع کے مطابق شدت پسندوں نے ملٹری انٹیلیجنس کے چار اہلکاروں کو چند روز قبل اغواء کرلیا تھا اور خفیہ اداروں کی اطلاعات کے مطابق اغواء کاروں نے ان افراد کو پیر چمبل کی پہاڑیوں میں چھپا کر رکھا تھا۔

ذرائع کے مطابق شدت پسندوں کی جانب سے مبینہ طور پر ان چار اہلکاروں کی رہائی کے بدلے ان بیس سے زیادہ اہم ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا جنہیں قبائلی علاقوں میں آپریشن کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔

ان سرکاری اہلکاروں کو چھڑانے کے لیے سنیچر کے روز مقامی پولیس کے ساتھ مل کر آپریشن کیا گیا جس میں پانچ شدت پسند اور ایم آئی کے چار اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

سکیورٹی کے ذرائع اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ ایم آئی کے اہلکاروں کو اغواء کیا گیا تھا بلکہ وہ اس آپریشن میں حصہ لے رہے تھے جب وہ شدت پسندوں کی گولیوں کا نشانہ بنے۔

اسی بارے میں