پیمرا کے احکامات کے خلاف حکمِ امتناعی

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایف ایم 88 کی ملتان میں نشریات سولو ایم کے نام سے ہوتی ہیں

لاہور ہائی کورٹ نے بی بی سی پاکستان کے ملتان میں پارٹنر ریڈیو سٹیشن ایف ایم 88 کی درخواست پر پیمرا یعنی پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا ہے۔

پیمرا نے ایف ایم سٹیشنوں کو بی بی سی کے مختصر دورانیہ کے نیوز بلیٹن نشر کرنے سے روکنے کا حکم جاری کیا تھا اور اس فیصلے کو ایف ایم 88 نے عدالت میں چیلنج کردیا ہے۔

ملتان میں ایف ایم 88 کی نشریات ایف ایم سولو کے نام سے جانی جاتی ہیں۔

ملتان بینچ میں جسٹس امین الدین خان کی عدالت نے یہ حکمِ امتناعی اٹھائیس نومبر تک کے لیے جاری کیا ہے۔ عدالت نے ایف ایم 88 کی درخواست باقاعدہ سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے پیمرا کو نوٹس جاری کردیا ہے۔

عدالت کے حکم کے مطابق اٹھائیس نومبر تک ایف ایم 88 اپنی نشریات کے دوران بی بی سی کے مختصر دورانیے کے تین بلیٹن نشر کرتا رہے گا۔

اس سے پہلے سندھ ہائی کورٹ بی بی سی پاکستان کی درخواست پر پیمرا کے فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کر چکا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس مقبول باقر نے بی بی سی پاکستان کی آئینی درخواست کی ابتدائی سماعت کے بعد یہ حکم امتناعی جاری کیا اور اکیس نومبر کے لیے پیمرا اور بی بی سی کے پارٹنر ایف ایم ریڈیو سٹیشنوں کو نوٹس جاری کردیے ہیں۔

ایف ایم 88 کی جانب سے کنور امتیاز محمد خان ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ اٹھارہ مئی سنہ دو ہزار دس سے پیمرا نے ایف ایم 88 کو بی بی سی کے مختصر دورانیے کے بلیٹن نشر کرنے کی اجازت دی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پیمرا نے چھ اکتوبر سنہ دو ہزار گیارہ کو یکطرفہ طور پر ایک خط کے ذریعے ایف ایم 88 کو ھدایت دی کہ وہ بی بی سی کے مختصر دورانیے کے بلیٹن کی نشریات تیس دن کے اندر روک دے۔

کنور امتیاز ایڈووکیٹ نے عدالت کو بتایا کہ پیمرا اپنی ھدایت کے ذریعے ملکی اور غیرملکی معلومات کی عوام تک فراہمی پر پابندی عائد کررہی ہے اور اس نے ایف ایم 88 کو یہ موقع بھی نہیں دیا کہ اس کے موقف کو سنا جائے۔

انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پیمرا کے حکم نامے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

اسی بارے میں