نواز لیگ کا ’عمران فوبیا‘ اور صدر کا ’تھینک یو‘

Image caption پاکستانی سیاست میں ‘عمران فیکٹر’ کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے

پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے اتوار کو اپنی جماعت کی مرکزی کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ اقتدار میں آ کر فوج اور انٹیلیجنس ادارے آئی ایس آئی کو منتخب حکومت کے ماتحت کردیں گے۔

یہ بات انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہی جس میں ان سے پوچھا گیا کہ مسلم لیگ (ن) والے ان پر الزام لگا رہے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ان کا ووٹ بینک توڑنے کے لیے عمران خان کو سیاسی مدد فراہم کر رہی ہے اور ماضی کی طرح فوج کے حمایت یافتہ لوگ کبھی عوامی پذیرائی حاصل نہیں کر پائیں گے۔

ظاہر ہے کہ عمران خان نے اتنی بڑی بات اپنے ناقدین کا منہ بند کرانے کے لیے کہی ہے لیکن ماضی میں اگر دیکھیں تو اس طرح کی باتیں کم و بیش تمام جماعتوں کے رہنماء کرتے رہے ہیں۔ لیکن حقیقت میں عمل صرف ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نواز شریف نے کر کے دکھایا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے جنرل گل حسن کو ہٹایا اور میاں صاحب نے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت اور بحریہ کے سربراہ منصورالحق کو چلتا کیا۔

جب سے عمران خان نے لاہور میں ایک بہت بڑا اور کامیاب عوامی جلسہ کیا ہے اس وقت سے پاکستانی سیاست میں ’عمران فیکٹر‘ کو کافی اہمیت دی جا رہی ہے۔ بعض تجزیہ کارروں کا خیال ہے کہ عمران خان نے نوجوانوں کو باہر نکالا ہے اور یہ ایسے ووٹر ہیں جو ماضی میں پولنگ سٹیشن آتے ہی نہیں تھے اور شاید تبھی نصف سے زیادہ پاکستان میں ووٹ ہی نہیں پڑتے۔

جبکہ کچھ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ عمران خان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے پڑھے لکھے ووٹر کو بھی توڑ سکتے ہیں۔ ان کے بقول کسی حد تک مڈل کلاس کے علاوہ تاجروں اور مذہبی سوچ کے لوگوں کو بھی وہ اپنی طرف کھینچ سکتے ہیں۔ ایسے میں بظاہر بڑا سیاسی دھچکا مسلم لیگ (ن) کو لگتا نظر آ رہا ہے۔

لیکن مسلم لیگ (ن) ایسے تاثر کو رد کرتی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ محض ایک جلسہ کی بنیاد پر کوئی نتیجہ اخذ نہیں کرنا چاہیے۔ بعض تجزیہ کار مسلم لیگ (ن) کی اس رائے سے اتفاق کرتے ہوئے یہ سوال بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر ایسا ہے تو پھر مسلم لیگ (ن) ’عمران فوبیا‘ میں کیوں مبتلا ہوگئی ہے؟۔

پہلے تو مسلم لیگ (ن) کی تنقید کی توپوں کا رخ صرف اپنے روایتی حریف پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدرِ پاکستان آصف علی زرداری کی طرف تھا لیکن اب عمران خان بھی ان کے نشانے پر ہیں۔ یقیناً ایسی صورتحال میں صدرِ پاکستان دل ہی دل میں ضرور کہتے ہوں گے ’تھینک یو عمران خان‘۔

اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ عمران خان نے پندرہ برس کی محنت کے بعد پاکستانی سیاست میں ایک نمایاں مقام حاصل کرلیا ہے لیکن ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہ پاکستان میں انقلاب لا سکیں گے اور وہ عوامی سیلاب کی نمائندگی کرتے ہوئے وزیراعظم کی مسند تک پہنچ سکیں گے۔

کیونکہ عمران خان کی پارٹی کا بظاہر تنظیمی ڈھانچہ نچلی سطح تک کمزور ہے اور اس لیے وہ دیہات میں تو شاید کوئی بڑی کامیابی حاصل کرسکیں کیونکہ ان کا مقابلہ روایتی وڈیروں اور جاگیرداروں سے ہوگا۔ ہاں البتہ شہروں میں انہیں ایک حد تک پذیرائی مل سکتی ہے۔

بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ لاہور سمیت وسطی پنجاب کے کچھ حلقوں میں وہ بہت بڑا ’اپ سیٹ‘ بھی کرسکتے ہیں اور کئی حلقوں میں وہ مسلم لیگ (ن) کا ’وننگ مارجن‘ کاٹ سکتے ہیں اور اس کا فائدہ شاید پیپلز پارٹی سمیت مسلم لیگ (ن) کے مخالفین کو پہنچے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption عمران خان نے لاہور میں ایک بڑا عوامی جلسہ کیا تھا

نیز یہ کہ الیکشن کے داؤ و پیچ کا جتنا تجربہ اور نیٹ ورکنگ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن) ، متحدہ قومی موومنٹ، مسلم لیگ (ق) اور عوامی نیشنل پارٹی کے پاس ہے اتنا عمران خان کے پاس نہیں۔ ہاں البتہ ایک حد تک ان کی یہ کمی جماعت اسلامی پوری کرسکتی ہے لیکن مطلوبہ نتائج کے لیے جماعت کا تجربہ اور نیٹ ورک بھی شاید کار آمد ثابت نہ ہوسکے۔ کیونکہ جماعت خود ماضی میں اپنے لیے کوئی بڑے نتائج حاصل نہیں کر پائی۔

پاکستان کے روایتی سیاسی کلچر کا اگر جائزہ لیا جائے تو پولنگ والے دن ووٹر کو گھر سے نکالنے، گاڑیوں کا انتظام کرنے، کھانا فراہم کرنے، ووٹ نمبر کی پرچی بنا کر دینے، منت سماجت کرنے، پولنگ ایجنٹ بٹھانے اور ان کی مدد کے لیے فی پولنگ سٹیشن مطلوبہ کم از کم پندرہ سے بیس رضا کاروں کی تعداد فراہم کرنی ہوگی جوکہ اگر ان کے لیے ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہوگا۔ جبکہ کسی جھگڑے، فساد اور صلح صفائی کے لیے بھی کچھ نفری درکار ہوتی ہے۔

فروری سنہ دو ہزار آٹھ کے عام انتخابات میں ملک بھر میں چونسٹھ ہزار سے زیادہ پولنگ سٹیشن اور پونے دو لاکھ کے قریب پولنگ بوتھ قائم کیے گئے تھے اور آئندہ انتخابات میں یہ تعداد اس سے کچھ زیادہ ہوگی۔ اس اعتبار سے ملک بھر میں ہر پولنگ سٹیشن پر اگر کم از کم پندرہ رضا کاروں کا بھی اندازہ لگایا جائے تو پونے دس لاکھ افراد عمران خان کو درکار ہوں گے۔

ایسے میں اب تک لاہور میں لگ بھگ سوا لاکھ افراد کا ایک جلسہ کرنے کی بنیاد پر فی الوقت عمران خان کے سیاسی مستقبل کا نتیجہ آپ خود ہی اخذ کرلیں۔

اسی بارے میں