کمیٹی قائم، ’پولیس سے بھی پوچھ گچھ ہو گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ذرائع کے مطابق اس علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی سے اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

پاکستانی فوج کے اعلیٰ حکام نے پینڈ دادن خان کے علاقے میں ملٹری انٹیلیجنس کے چار اہلکاروں کے شدت پسندوں کے ہاتھوں قتل کے واقعہ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے اور اس ضمن میں ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے۔

پینڈ دادن خان کی پہاڑی سلسلے پیر چنمبل میں سنیچر کے روز شدت پسندوں نے ایک میجر سمیت چار اہلکاروں کو اغوا کرنے کے بعد ہلاک کردیا تھا۔ عسکری ذرائع کا دعویٰ تھا کہ یہ افراد شدت پسندوں کے خلاف کیے جانے والے آپریشن کے دوران ہلاک ہوئے تھے۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس واقعہ کی تحقیقات کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی بہت سے معاملات کی چھان بین کرے گی تاہم اس کمیٹی کی رپورٹ منظر عام پر نہیں لائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق اس علاقے میں جرائم پیشہ عناصر کی اتنی بڑی تعداد میں موجودگی سے اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ اُن کے مقامی پولیس کے ساتھ روابط ہوں گے اور اگر پولیس چاہے تو اُن جرائم پیشہ افراد کے خلاف اپنے تئیں بھی کارروائی کرسکتی ہے۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ ذرائع کے مطابق کمیٹی کے ارکان مقامی پولیس کے افسران سے بھی اس واقعہ سے متعلق پوچھ گچھ کریں گے۔

شدت پسندوں کے ہاتھوں ہلاک والے میجر آفاق اور دیگر اہلکاروں کی تعیناتی راولپنڈی میں تھی اور کمیٹی اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی کہ وہ کس کی اجازت لے کر شدت پسندوں کی ریکی کرنے کے لیے پیر چنمبل کی پہاڑیوں میں گئے تھے۔

اس علاقے سے متعلق فوج اور سویلین خفیہ اداروں نے متعدد بار رپورٹس دی ہیں کہ ان پہاڑیوں میں جرائم پیشہ اشتہاری اور شدت پسند کالعدم تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد پناہ لیے ہوئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس واقعہ سے متعلق ابھی تک جو شواہد اکھٹے کیے گئے ہیں اُن میں اس بات کے ثبوت نہیں ملے کہ راولپنڈی سے جانے والے ایم آئی کے ان فوجی افسران اور اہلکاروں نے مقامی نیٹ ورک استعمال کیا ہو۔

اُس علاقے میں دیگر ایجنسوں کی طرح ایم آئی کے اہلکار بھی اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

یاد رہے کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے دور میں ایم آئی کو بڑا متحرک کردیا گیا تھا اور اس ایجنسی کے اہلکارروں کو صوبہ بلوچستان اور دیگر علاقوں میں تعینات کیا گیا جبکہ اُس عرصے کے دوران انٹر سروسز انٹیلیجنس اتنی متحرک نہیں تھی۔

ایم آئی کے اہلکاروں کی موجودگی اُن جگہوں پر زیادہ ہوتی ہے جہاں پر فوجی تنصیبات زیادہ ہوں۔ عمومی طور پر اس ونگ میں کام کرنے والے فوج کے مختلف شعبوں میں تعینات افراد کی حرکات وسکنات پر بھی نظر رکھتے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق مقامی پولیس یا دیگر سویلین اداروں کی طرف سے بھیجی جانے والی رپورٹس میں اس بات کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے کہ میجر آفاق یا ایم آئی کے کسی بھی اہلکار نے پیر چنمبل کے علاقے کا دورہ کرنے سے پہلے اُنہیں آگاہ کیا تھا۔

ان رپورٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ ایم آئی کے چار اہلکاروں کے علاقے کا دورہ کرنے سے متعلق کسی کو بھی علم نہیں تھا۔

مقامی پولیس کو بھی ان فوجی اہلکاروں کی ہلاکت کا علم نہیں تھا۔ پولیس افسران کو اس واقعہ کا علم اُس وقت ہوا جب متعلقہ حکام کی جانب سے ان چاروں اہلکاروں کے ساتھ رابطہ نہ ہونے پر سکیورٹی اہلکاروں کی بڑی تعداد علاقے میں پہنچی۔

سکیورٹی کے ان اہلکاروں نے پیر چنمبل کی پہاڑیوں سے پہلے تو وہ گاڑی برآمد کی جس پر میجر آفاق اور اُن کے تین اہلکار سوار تھے۔

اس واقعہ میں ہلاک ہونے والے ایک مقامی باشندہ محمود سیالوی کے بارے میں بھی متضاد اطلاعات ہیں کچھ حلقے یہ کہتے ہیں کہ وہ ایم آئی کے لیے کام کرتا تھا۔

تاہم کچھ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وہ اُس علاقے میں کوئلے کا کاروبار کرتا تھا اور اُسے علاقے سے متعلق بہت سی معلومات تھیں۔

اگرچہ پیر چنمبل کا پہاڑی علاقہ داشوار گُزار تو ضرور ہے لیکن پولیس اور سیکورٹی فورسز کے پاس جو گاڑیاں ہیں وہ بڑی آسانی سے اُوپر تک جاسکتی ہیں۔

اسی بارے میں