تحریک انصاف کے ساتھ سفر کیسا رہے گا؟

عمران خان تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نقادوں کی رائے میں مستقبل کی پاکستانی سیاست میں عمران خان، اصغر خان ثابت ہو سکتے ہیں

متعدد سیاسی جماعتوں کے دوسرے اور تیسرے درجے کے انتخابی امیدوار پاکستان تحریک انصاف کی جانب اڑان کے لیے پر تول رہے ہیں لیکن پارٹی کے قریبی ذرائع کے مطابق پہلے سے موجود عہدیدار خدشات کا شکار ہیں کہ انہیں نئے آنے والوں کے لیے جگہ خالی کرنا پڑ سکتی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کا قیام بطور سیاسی جماعت اپریل انیس سو چھیانوے میں عمل میں آیا۔ لگ بھگ پندرہ سال کی یہ عمر کسی قومی سیاسی جماعت کے لیے زیادہ نہیں سمجھی جاتی لیکن اس مدت کے دوران تحریک انصاف میں آنے اور جانے والوں کی تعداد ضرور چونکا دینے والی ہے۔

صورتحال کا زیادہ دلچسپ پہلو تو یہ ہے کہ تحریک انصاف کی سیڑھی استعمال کرنے والے بعض افراد اہم سیاسی عہدوں تک پہنچ کر ریٹائر بھی ہو چکے جبکہ تحریک کے بانی عمران خان ابھی میدان سیاست کے خارزاروں سے الجھتے ہوئےمنزل کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔

تحریک انصاف سے وابستگی ترک کر کے اہم ذمہ داری سنبھالنے والوں میں سب سے نمایاں نام موجودہ صوبہ خیبر پختون خواہ( سابق صوبہ سرحد) اور بلوچستان کے سابق گورنر اویس غنی کا ہے جو عمران کی سیاسی جدوجہد کے ابتدائی ساتھیوں میں سے تھے لیکن مسلم لیگی صوبائی وزیر اور بڑے سیاسی خانوادے کے سپوت نوابزدہ محسن علی خان کی شمولیت سے دلبرداشتہ ہو کر انہوں نےراستہ جدا کر لیا اور پارٹی کی صوبائی صدارت سے استعفیٰ دے دیا لیکن جلدی ہی قسمت کی دیوی ان پر مہربان ہوئی اور مشرف دور میں گورنری نے ان کا گھر ایسا دیکھا کہ پھر طویل عرصے تک انہیں دائیں بائیں دیکھنے کی فرصت بھی نہیں ملی۔اویس غنی کی رخصتی کا باعث بننے والے نوابزدہ محسن بھی جلد ہی پارٹی کو داغ مفارقت دے گئے۔

مشرف دور کے ہی وزیر خارجہ عبدالستار حلف اٹھانے سے قبل تحریک انصاف کے سیکرٹری اطلاعات تھے۔ پاکستان کے سیکرٹری خارجہ کے طور پر ریٹائر ہونے والے عبدالستار جب وزرات سے الگ ہوئے تو پھر میدان سیاست کا رخ نہیں کیا۔

یوں تو پاکستان کی وزارت عظمٰی کی کرسی پر پورے طمطراق سے براجمان رہنے والے شوکت عزیز کا شمار بھی تحریک انصاف کی معاشی حکمت عملی بنانے والوں میں کیا جاتا ہے اور عمران خان اپنے قریبی حلقوں میں ان کا ذکر بہت اعتماد کے ساتھ کرتے رہے ہیں لیکن اب وہ ایک چلا ہوا کارتوس ہیں اس لیے ان سے تعلق کا ’آن ریکارڈ‘ اعتراف نہیں کیا جاتا۔

جنرل ضیاءالحق کے دور کے دبنگ افسر وفاقی سیکرٹری اطلاعات لیفٹنٹ جنرل ریٹائرڈ مجیب الرحمٰن بھی عمران خان کے سیاسی رفیق رہ چکے ہیں لیکن انتقال سے قبل وہ بھی غیر فعال ہو چکے تھے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی بانی رکن معراج محمد خان جنہیں ذوالفقار علی بھٹو نے اپنا نظریاتی جانشین قرار دیا تھا تحریک انصاف کی سیکرٹری جنرل شپ کا بھاری پتھر چوم کر الگ ہو چکے ہیں۔

ممتاز سیاسی تجزیہ کار نسیم زہرہ کو تحریک انصاف کی پہلی سیکرٹری اطلاعات ہونے کا اعزاز حاصل ہے لیکن وہ زیادہ دیر تک شریک سفر نہ رہ سکیں، قانون کے ساتھ ساتھ سیاست کے شعبے میں سرخیل ایس ایم ظفر کی بہو شذرے حسین بھی تحریک انصاف کے ابتدائی قافلے میں شامل تھیں۔

نقادوں کی رائے میں مستقبل کی پاکستانی سیاست میں تحریک انصاف ایک نئی تحریک استقلال اور عمران خان، اصغر خان ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس دعوے کے حمایت میں تحریک استقلال میں شامل اور الگ ہو کر بڑے عہدوں پر پہنچنے والوں کی ایک لمبی فہرست پیش کی جاتی ہے جن میں میاں محمد نواز شریف، اعتزاز احسن، جاوید ہاشمی، میاں محمود علی قصوری، خورشید محمود قصوری، گوہر ایوب خان، سید ظفر علی شاہ، احمد رضا قصوری، بیگم مہناز رفیع اور آصف فصیح الدین وردگ جیسے قد آور رہ نما شامل ہیں۔ لیکن ممتاز سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر فرخ سلیم کی رائے میں تحریک انصاف پنجاب کے شہری علاقوں کی ’ایم کیو ایم‘ ثابت ہو سکتی ہے۔

تحریک انصاف کی موجودہ قیادت میں سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عارف علوی کوئی جانی پہچانی شخصیت نہیں ہیں، البتہ میاں محمد اظہر ماضی میں پنجاب کے گورنر اور قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔ شریف خاندان کے ساتھ خاندانی تعلقات رکھنے والے خاموش طبع میاں اظہر مسلم لیگ ق کی بانی تھے لیکن جس دو ہزار دو کے جن عام انتخابات میں وہ وزارت عظمیٰ کے امیدوار ہو سکتے تھے وہ اسی میں اپنی نشست گنوا بیٹھے۔

سینئر نائب صدر حامد خان معروف قانون دان اور دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں۔

لاہور میں میاں محمود الرشید اور اعجاز چوہدری کی اٹھان جماعت اسلامی کی ہے اور سیاسی مبصرین کی رائے میں انہی کی منظم اور مربوط کوششوں سے لاہور میں کامیاب جلسے کے بعد آج تحریک انصاف سیاسی راڈار پر قابل ذکر سمجھی جا رہی ہے۔

ولید اقبال کی تحریک انصاف میں شمولیت سے خانوادہ اقبال ایک بار پھر سیاست میں واپس آئے ہیں ورنہ انیس سو ستر میں لاہور کے ایک حلقے سے ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں ڈاکٹر جاوید اقبال کی شکست کے بعد اس خاندان نے قانون اور تدریس کے شعبے کو ہی اپنی پہچان بنا لیا تھا۔

سابق انٹیلی جنس بیورو چیف مسعود شریف اپنے حلقہ احباب سمیت تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر چکے ہیں جبک مشرف دور کے سابق وفاقی وزیر جہانگیر ترین اور اویس لغاری بھی جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کی پہچان بننے کے لیے پر تول رہے ہیں۔

تاہم سوال یہ ہے کہ آیا یہ لوگ جو تحریکِ انصاف میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں وہ جماعت کے ساتھ رہیں گے یا یہ سفر کم مدت کا سفر ثابت ہو گا۔

اسی بارے میں