’پان پراگ‘ اور موئنجودڑو جانے کی خواہش

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ’جو میڈیا لکھتا ہے اور لوگ پڑھتے ہیں اس سے تصورات تبدیل ہوتے ہیں‘

کراچی میں صبح ساڑھے دس بجے کا وقت ہے، ایک کوسٹر بس پریس کلب کے احاطے میں داخل ہوتی ہے جس میں سے گلے میں کیمرے لٹکائے ہوئے مرد اور خواتین اترتے ہیں اور ان کا رخ پریس کلب کی عمارت کی جانب ہے۔

ان میں سے بعض دیواروں پر تحریر نعروں کی تصاویر لیتے ہیں اور کچھ پان سگریٹ کی کیبن کی۔

ایکدم آواز آتی ہے ’پان پراگ اور بمبئی‘، جس کے بعد تمام کیمروں کا رخ اس کیبن کی طرف ہو جاتا ہے جہاں پر یہ دونوں بھارتی مارکہ تمباکو فروخت کیے جا رہے ہیں۔

بھارتی تمباکو دیکھ کر حیران ہونے والے یہ افراد بھی بھارتی ہیں اور صحافیوں کے اس گروپ کا حصہ ہیں جو ان دنوں سندھ کے دورے پر آیا ہوا ہے۔

اس بیس رکنی وفد کی قیادت ممبئی پریس کلب کے چیئرمین پرکاش اکلوکار کر رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت میں حالات کشیدہ یا سازگار بنانے میں میڈیا اہم کردار ادا کرتا رہا ہے، مگر یہ کردار کتنا ذمہ دارانہ ہے؟ اسی موضوع پر منگل کو کراچی پریس کلب میں دونوں ملکوں کے صحافیوں نے اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔

نوجوان بھارتی صحافی شالنی نائر نے بتایا کہ وہ لوگ جیسے ہی پاکستان پہنچے ان کے گلوں میں پھولوں کے ہار ڈالے گئے لوگ گلے ملے، یہ استقبال اتنا گرمجوش تھا جو ایک پل بھی ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ وہ کسی اور ملک میں ہیں۔

ان کے مطابق دونوں اطراف کے لوگوں کے ذہنوں میں جو غیر حقیقی خیالات ہیں انہیں تبدیل کرنے میں میڈیا ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ جو میڈیا لکھتا ہے اور لوگ پڑھتے ہیں اس سے تصورات تبدیل ہوتے ہیں، اس لیے وہ سمجھتی ہیں کہ دو طرفہ بہتری اور پرامن تعلقات کے لیے میڈیا کا کردار اہم ہے۔

وفاقی اردو یونیورسٹی کے پروفیسر توصیف احمد نے ہندی اور اردو پریس پر تنقید کی اور الزام عائد کیا کہ دونوں کا کردار منفی رہا ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ صحافیوں کو اس تربیت کی ضرورت ہے کہ تنازعات کے باوجود دوستی کا سفر عوام کے فائدے میں ہوتا ہے۔

پاکستان میں بھارتی تفریحی چینل تو دیکھے جا سکتے ہیں مگر نیوز چینلز پر پابندی ہے۔ بھارتی صحافیوں کا مطالبہ تھا کہ ان چینلز سے پابندی ہٹائی جائے تاکہ عوام جان سکیں کہ وہاں کیا بحث ہو رہی ہے۔

گزشتہ دنوں پاکستان نے بھارت کو پسندیدہ ملک کا درجہ دیا ہے، ممبئی پریس کلب کے چیئرمین پرکاش اکلوکار کر نے اس کو خوش آئندہ قرار دیا مگر ان کا کہنا تھا کہ ’اس اعزاز کو کیا کریں گے جب یہاں کا آدمی وہاں نہیں جاسکتا وہاں کا آدمی یہاں نہیں آسکتا۔ بس گلے میں ایک بیج لگ گیا ہے‘۔

پرکاش اکلوکارکر کی بیگم ان کے ساتھ پاکستان آنے میں دلچسپی رکھتی تھیں مگر انہیں ویزہ نہیں مل سکا اور جس پرواز میں وہ ممبئی سے کراچی پہنچے وہ بھی آدھی خالی تھی۔ بقول ان کے ایسی پروازیں چلانے کا کیا فائدہ جب ویزے نہیں دیتے۔

صحافیوں نے پاکستان یا بھارت پہنچ جانے کے بعد بھی دو تین ماہ تک چیکنگ اور پوچھ گچھ پر حکومتوں سے گلہ شکوہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ائرپورٹ پر سکیورٹی کے مراحل مکمل ہو جاتے ہیں تو اس کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے۔

بھارتی وفد میں شامل نریش کماتھ موئن جو داڑو جانے کی خواہش رکھتے ہیں مگر انہیں اجازت نہیں مل سکی، بقول ان کے پرائمری میں انہیں موئن جو داڑو کی تاریخ اور ثقافت کے بارے میں پڑھایا گیا تھا، اس لیے وہ اور ان کے ساتھی وہاں جانے میں دلچسپی رکھتے تھے۔

اس بات چیت کے دوران پاکستانی صحافی اویس توحید نے صحافیوں کو کشمیر اور مسلح گروہوں کو رپورٹ کرنے اور الفاظ کے چناؤ کے حوالے سے مشکلات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ زندگی کا سفر رومانس اور آئیڈیل ازم کے ساتھ ہوتا ہے اگر اس پس منظر میں پاکستان اور بھارت کے تعلقات دیکھے جائیں تو یہ مکمل سانحات سے بھرے ہوئے ہیں۔

اویس کے مطابق اس وقت اسلام آباد اور نئی دلی کے جو بدلتے رویے ہیں چاہے وہ بین الاقوامی دباؤ کا تسلسل ہو ، انہیں جاری رہنا چاہیے۔

اسی بارے میں