ہندوؤں کا قتل: ’ٹارگٹ کلنگ نہ کہا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption رحمان ملک نے کہا کہ وہ اقلیتوں کے تمام اراکین سے آئندہ ہفتے خود بھی ملیں گے

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا ہے کہ صوبہ سندھ کے ضلع شکارپور میں تین ہندوؤں کے قتل کو ٹارگٹ کلنگ نہ کہا جائے۔

یہ بات انہوں نے منگل کو قومی اسمبلی میں تمام جماعتوں کے نمائندوں اور باالخصوص اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے اراکین کی جانب سے نکتہ اعتراضات پر واقعے کی مذمت کرتے ہوئے حکومت پر تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

انہوں نے بتایا کہ شکارپور کے قصبے چک میں بھیو قبیلے کی ایک لڑکی کے ساتھ ایک ہندو نوجوان کے تعلقات استوار ہوگئے جس کی وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا جس میں تین ہندوؤں کو قتل کیا گیا ہے۔ ان کے بقول ہندو برادری کے لوگ بھیو قبیلے کے سردار کے پاس صلح صفائی کے لیے گئے اور جرمانہ ادا کرنے کی پیشکش بھی کی اور سردار نے کہا کہ عید کے بعد معاملا طے کریں گے۔

قومی اسمبلی میں موجود ہمارے نامہ نگار اعجاز مہر نے بتایا کہ رحمان ملک نے کہا کہ کچھ لوگوں نے اس سے پہلے ہی متاثرہ فریق کو اکسایا اور یہ واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کو ٹارگٹ کلنگ نہ کہا جائے کیونکہ یہ ایک جرم ہے اور قتل کا عمل تو حضرت آدم کے زمانے سے شروع ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد پولیس نے گیارہ ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اہم ملزم کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور حکومت اقلیتوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرنے کو تیار ہے۔

وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے بعض اراکین کی اس تجویز سے اتفاق کیا کہ قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے جو ملک بھر میں تمام اقلیتوں کے تحفظ کے لیے اقدامات تجویز کرے اور شکارپور واقعے کی تحقیقات کرے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اقلیتوں کے تمام اراکین سے آئندہ ہفتے خود بھی ملیں گے۔ لیکن اراکین کے مطالبے اور وزیر داخلہ کی رضا مندی کے باوجود کمیٹی بنانے کا اعلان نہیں ہوسکا۔

قبل ازیں حکمران پیپلز پارٹی سمیت ایوان کی دونوں جانب اقلیتوں کے تمام اراکین اور حزب مخالف کے نمائندوں نے کہا کہ ملک بھر میں اقلیتوں کے خلاف تشدد کی کارروائیاں بڑھتی جا رہی ہیں اور دنیا بھر میں پاکستان بدنام ہو رہا ہے۔

پیپلز پارٹی کے ایک رکن لال چند نے کہا کہ جب بھی پیپلز پارٹی کی حکومت آتی ہے تو کچھ عناصر اقلیتوں کے خلاف تشدد کرتے ہیں کیونکہ پیپلز پارٹی اقلیتوں کے حقوق کی بات کرتی ہے اور انہیں سہولیات فراہم کرتی ہے۔

عوامی نشینل پارٹی کی بشریٰ گوہر واحد مقرر تھیں جنہوں نے احمدیوں کے خلاف پرتشدد کارروائیوں کے خلاف بھی احتجاج کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فوجی ڈکٹیٹر ضیاء الحق کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے کہ ملک میں عدم برداشت اور انتہا پسندی بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت فوری اقدامات کرے جس سے اقلیتوں کے ساتھ تیسرے درجے کے سلوک کا تاثر ختم ہو۔

اقلیتوں کے خلاف تشدد کے بارے میں بحث کے دوران سندھ کے بعض ہندو برادری کے ارکین قومی اسمبلی نے کہا کہ سندھ میں جان بوجھ کر ہندؤں کو تاوان کے لیے اغوا کیا جاتا ہے، بچے اغوا ہوتے ہیں اور ہندو خواتین سے جبری شادیاں کی جاتی ہیں تاکہ انہیں ملک چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ سے کئی ہندو خاندان بھارت نقل مکانی کرچکے ہیں اور یہ پاکستان کے خلاف سازش ہے۔

قومی اسمبلی میں دوسرا اہم معاملہ سپیکر ڈاکٹر فہمیدا مرزا کی کراچی کی رہائش گاہ سے سیکورٹی ہٹانے کا اٹھایا گیا۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما آفتاب شعبان میرانی سمیت متحدہ قومی موومنٹ کے علاوہ تمام جماعتوں کے نمائندوں نے وزیراعظم اور وزیر داخلہ کی موجودگی میں سپیکر کی سکیورٹی ہٹانے کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ انہیں فوری اضافی سیکورٹی دی جائے کیونکہ ان کی جان کو خطرہ ہے۔

سپیکر کے شوہر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا کی حکومت سے علحدگی، متحدہ قومی موومنٹ پر دہشت گردی اور بھتہ خوری کے الزامات لگانے اور پیپلز پارٹی کے بعض وزراء کو کرپٹ قرار دینے کے بعد اچانک سپیکر کی سیکورٹی ختم کردی گئی۔

لیکن سپیکر ڈاکٹر فہمیدا مرزا نے وضاحت کی کہ ان کی سیکورٹی پر مامور عملے کو ہٹائے جانے کے بعد جب یہ معاملا صدرِ مملکت اور وزیراعظم کے نوٹس میں لایا گیا تو سکیورٹی بحال کردی گئی۔

وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہا کہ انہوں نے آئی جی سندھ پولیس سے رپورٹ طلب کی ہے اور جو بھی ذمہ دار ہوگا ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کی سیکورٹی حکومت کی ذمہ داری ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔

ایاز امیر کی جانب سے جہلم میں پیر چُنبل کے پہاڑی علاقے میں انٹیلی جنس کے چار اہلکاروں کے مارے جانے کے نکتے کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ جو شدت پسند مالاکنڈ اور فاٹا سے بھاگے ہیں وہ مختلف علاقوں میں پھیل گئے ہیں۔

ان کے بقول ڈاکٹر ارشد نامی شدت پسندوں کا کمانڈر جہلم کی پہاڑی علاقے میں چھپا ہوا ہے جو خود کش حملوں اور پرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہیں اور ان کی خبر گیری کرنے والے اہلکاروں کو انہوں نے ہلاک کیا ہے۔

اسی بارے میں